.

مسجد اقصیٰ کے نزدیک سرنگ کھودنے پر اسلامی تعاون تنظیم کا اظہار مذمت

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں سرنگیں کھودنے کا عمل اسرائیل کی ’غیر ذمہ دار دیدہ دلیری‘ کا مظہر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تعاون تنظیم ’’او آئی سی‘‘ نے مقبوضہ جنوب مشرقی بیت المقدس کے علاقے سلوان میں ’’حجاج روڈ‘‘ کے نام سے زیر زمین سرنگوں کے منصوبے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

او آئی سی نے سرنگیں کھودنے کو ’’غیر ذمہ دار دیدہ دلیری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدام کے ذریعے اسرائیل مشرقی بیت المقدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے میں کوشاں ہے۔ تنظیم نے مشرقی بیت المقدس سے متعلق اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مقبوضہ علاقہ ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا جسے بین الاقوامی برادری نے کبھی جائز تسلیم نہیں کیا۔ اتوار کے روز اس سرنگ کی افتتاحی تقریب میں امریکی سفیر سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی حکام نے جنوب مشرقی بیت المقدس میں سلوان ٹائون کے نیچے شہر کی پرانی تاریخی دیواروں کے ساتھ ایک سرنگ کی کھودائی کا افتتاح کیا ہے۔ یہ سرنگ یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول تک رسائی کا نیا موقع راستہ فراہم کرے گی۔

فلسطینی ایوان صدر نے القدس میں یہودیوں کو مذہبی رسومات کی سہولت کے لیے سرنگ کی کھدائی کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پر خبردار کیا ہے۔ اسرائیل کی اس مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی پیش رفت کےحوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اسلامی تعاون تنظیم' او آئی سی' سیکرٹریٹ سے بھی رابطہ کیا ہے۔

قبل ازیں مصر کی جامعہ الازہر نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ القدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے'سرنگ' کی کھودائی کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین، مذہبی اصولوں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ القدس میں مسلمانوں اور مسیحی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے مذہبی حقوق کی حمایت کرے اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں‌ پوری کرے۔