.

یمن: منظّم لوٹ مار کے تحت حوثی ملیشیا کی جانب سے نئے ٹیکس عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثیوں نے متعدد اقتصادی اور خدماتی سیکٹروں میں ایک بار پھر ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس کا مقصد یمن میں "جنگی کاوشوں" کے لیے فنڈنگ کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔

ایک یمنی ذمے دار کے مطابق نئے ٹیکس ٹیلی کمیونی کیشن، بینکوں، منی ایکسچینجوں، ادویات، سگریٹس، کولڈ ڈرنکس، منرل واٹر، زرعی پیداوار، کھاد اور تعمیراتی ٹھیکے داری اور تعمیراتی سامان پر عائد کیے گئے ہیں۔ ان سے یمنی شہریوں کی کمر دُہری ہو جائے گی۔

ادھر یمن میں آئینی حکومت کے وزیر اطلاعات نے حوثی ملیشیا کی جانب سے اس "منظم لوٹ مار" کی کارروائیوں، شہریوں کو بُھوکا مارنے کی دانستہ کارستانیوں، انسانی حقوق کی تمام تر پامالیوں، قتل، کریک ڈاؤن، دہشت پھیلانے، قید میں رکھنے اور اغوا کے واقعات پر اقوام متحدہ کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کی شام اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں یمنی وزیر نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو ان ٹیکسوں کی مد میں اربوں (ریال) حاصل ہوں گے۔ یہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے موقوف ہونے والی مالی سپورٹ کی تلافی کی کوشش ہے۔

یمنی وزیر کے مطابق حوثیوں کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں متعدد سیکٹروں پر عائد کیے جانے والے یہ غیر قانونی ٹیکس ،،، شہریوں پر اضافی بوجھ ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے انسانی مصائب میں اضافے کا بھی سبب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نقد کرنسی کی خریداری اور بیرون ملک منتقلی کے نتیجے میں حوثی ملیشیا ملکی معیشت برباد کرنے اور مقامی کرنسی کی گراوٹ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔