.

ایران کی خلیج کو خون کے سمندر میں ڈبونے، اسرائیلی ایٹمی پلانٹ تباہ کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے کے ساتھ ایرانی قیادت کی طرف سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی برآمدات روکنے کی دھمکیوں کے بعد ایران کے ایک سرکردہ عالم دین نے دھمکی دی ہے کہ خلیج کے نیلے پانی کو سرخ کرنے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔ ان کا اشارہ خلیج میں بڑے پیمانے پر انسانی قتل عام کی طرف تھا۔

جامع مسجد تہران کے خطیب محمد علی موحدی کرمانی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں‌ کہا کہ اسرائیل کے جوہری پلانٹ 'دیمونا' کو تباہ اور نیلگوں خلیجی پانیوں کو سرخ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں‌ نے دعویٰ کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اخلاق اور انسانی اقدار پر مبنی ہے جب کہ امریکا کی طاقت وحشت اور درندگی پر مبنی ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ ایران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔ ایران ایٹم بم بنانے کے لیے یورینیم افزدوہ نہیں کر رہا ہے بلکہ تہران سائنسی تحقیقات اور پرامن توانائی کے حصول کے لیے یورینیم کو استعمال کرے گا۔ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کوغیرشرعی قرار دیتا ہے۔ ایران کو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

علامی علی موحدی کرمانی کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو اسرائیل پر حملے کی ضرورت پڑی تو اس کے دیمونا ایمٹی پلانٹ پر حملہ کافی ہوگا۔ اسرائیل کے پاس 200 ایٹمی وار ہیڈ ہیں جنہیں تباہ کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت نے حال ہی میں کہا ہے کہ یورپی ملکوں کی طرف سے کیے وعدے پورے نہیں کیے گئے جس کے باعث تہران نے یورینیم کی افزودگی کی مقدار میں اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادی خلیج کے نیلے پانی کو سرخ دیکھنا چاہتے ہیں‌ تو وہ ایران پر حملہ کر کے اس کے نتائج خود دیکھ لیں۔

انہوں‌ نے ایرانی عوام کی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت سے موثر اقدامات کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ایران کے کمزور اور غریب عوام کی مشکلات، تکالیف اور مصائب بہت زیادہ ہیں۔ حکومت کو عوام کے دیرینہ مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔