.

ترکی اور لیبیا کی وفاقی حکومت کے درمیان ڈرون طیاروں کی فروخت کا معاہدہ

انقرہ لیبیا میں فائز السراج کی حکومت کو 8 ڈرون طیارے فراہم کرے گا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں ترکی کی ایک ڈیل کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے۔ اس ڈیل کے تحت انقرہ لیبیا میں وفاق کی حکومت کو ڈرون طیارے فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد طرابلس کے معرکے کے دوران فائز السراج کی حکومت کے تباہ ہو جانے والے ڈرون طیاروں کا نقصان پورا کرنا ہے۔

یہ پیش رفت ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی استنبول میں لیبیا میں وفاق کی حکومت کے سربراہ فائز السراج سے ملاقات میں سامنے آئی۔ ترک ایوان صدارت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز ہونے والی ملاقات میں دونوں شخصیات نے لیبیا کی تازہ ترین صورت حال پر بات چیت کی۔

اناضول خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ایردوآن نے ایک بار پھر لیبیا میں وفاق کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

مذکورہ نئی ڈیل کے تحت انقرہ حکومت لیبیا میں وفاق کی حکومت کو Bayraktar TB-2 ماڈل کے 8 ڈرون طیارے فراہم کرے گی۔

اس سلسلے میں افریقن انٹیلی جنس کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ فائز السراج کی حکومت ڈرونز کی اشد ضرورت ہے۔ بالخصوص جب کہ لیبیا کی قومی فوج نے گذشتہ ایام کے دوران ترکی کی جانب سے دیے جانے والے 4 ڈرون طیاروں میں سے 3 طیارے تباہ کر دیے۔

جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی قومی فوج ترکی کو پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ وہ دارالحکومت طرابلس میں وفاق کی حکومت کے سائے تلے مسلح جماعتوں کی سپورٹ نہ کرے۔ انقرہ پر الزام ہے کہ وہ لیبیا میں مسلح جماعتوں کو مسلسل طور پر ہتھیار، ساز و سامان اور عسکری ماہرین فراہم کر رہا ہے۔ یہ 2011 میں جاری سلامی کونسل کی اُس قرار داد کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق لیبیا کو ہتھیاروں کی سپلائی ممنوع ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے رواں سال جون میں واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک طرابلس کے جنگجوؤں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ ایردوآن کے مطابق اس کا مقصد ایک طرف لیبیا کی فورسز کے مقابل طاقت کا توازن یقینی بنانا ہے اور دوسری طرف لیبیا میں ترکی کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔