.

تین عشروں بعد عراق کا تاریخی مقام 'بابل' عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومت کی مسلسل کوششوں‌ کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت 'یونیسکو' نے عراق کے تاریخی مقام 'بابل' کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے۔

خبر رساں‌ اداروں کے مطابق سنہ 1983ء کے بعد بغداد نے پانچ مرتبہ 'بابل' کو 'یونیسکو' کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دینے کی سفارش کی مگر یہ پہلا موقع ہے کہ 'یونیسکو' نے بابل کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ تسلیم کیا ہے۔ بابل کا علاقہ بغداد سے جنوب کی سمت میں 100 کلو میٹر دور 10 مربع کلومیٹر پھیلا ہوا ہے۔

وسطی ایشیائی ریاست آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو میں 'یونیسکو' کے اجلاس کے موقع پر عراق کے نمائندے نے کہا کہ 'بابل کی شمولیت کے بغیر عالمی ثقافتی ورثے کی کوئی وقعت نہیں۔ اگر بابل کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار نہیں دیا جاتا تو دُنیا کو انسانی تاریخ کے بارے میں کیسے علم ہوگا؟

گذشتہ ہفتے 'یونیسکو' کمیٹی کے اجلاس کے لیے 'باکو' کا انتخاب کیا گیا تھا۔ اس موقع پر 'بابل' سمیت دُنیا بھر کے 34 تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان میں زیادہ تر بورکینا فاسو اور برازیل کے تاریخی مقامات بھی شامل ہیں۔

سائنس وثقافت کے عالمی ادارے کی طرف سے بابل کو خطرے سے دوچار تاریخی مقامات میں شامل کیا تھا مگر عراقی حکومت کی طرف سے اعترضات اور بابل کو تاریخی ورثے میں‌ شامل کرنے کے مطالبے کے بعد اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

عراق کے شہر البصرہ میں محکمہ آثارقدیمہ کے ڈائریکٹر قحطان العبید نے کہا کہ بابل کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے۔ قدیم تاریخ میں یہ دنیا کا پہلا گنجان آباد شہر بتایا جاتا ہے۔

العبید نے مزید کہا کہ بابل کے باشندے تہذیب یافتہ، لکھنے پڑھنے کے ماہر، انتظامی اور سائنس علوم سے بھی بہرہ مند تھے۔ عراق کو اپنی اس تاریخ پر فخر ہے جو 5500 سال پہلے سے شروع ہوتی ہے۔