.

طائف: سعودی فرمان رواؤں کی سیرگاہ، پھولوں اور اناروں کا شہر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طائف کا شہر سعودی عرب کے فرمان رواؤں بالخصوص شاہ عبدالعزیزآل سعود کی موسم گرما میں پسندیدہ سیرگاہ تھی۔ سنہ 1343ھ میں طائف کو پہلے سعودی فرمانروا کا گرمائی سیاحتی مقام قرار دیا گیا۔ اس شہر کو یہ مقام اس کی صاف آب وہوا اور چار سو پھیلے طلسماتی قدرتی حسن کی بہ دولت دیا گیا۔

طائف شہر کے قدرتی حسن میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی، تاہم اب تبدیلی یہ رونما ہوئی ہے کہ اس شہر میں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ صرف اندرون ملک نہیں ، بیرون ملک سے بھی سیاح بڑی تعداد میں اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ طائف اپنی فطری اور قدرتی خوب صورتی کے ساتھ سیاحتی اور تاریخی مقام کی وجہ سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی صاف وشفاف آب وہوا بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہے۔

طائف کی اہم جگہوں میں'مقامات الھدا' سطح سمندر سے 2000 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔ ان جگہوں کا موسم اور آب وہوا سال کے بیشتر دنوں میں ٹھنڈا رہتا ہے۔ الشفاء نامی سیاحتی مقام 2240 میٹر بلند ہے۔ یہ پہاڑی سلسلوں کا مجموعہ ہے اور مقامی سطح پر مشہور پہاڑ'دکا' کہلاتا ہے۔

طائف میں کئی پرانے محلات ہیں۔ ان ہی میں 'شبرا' نامی ایک تاریخی محل ہے جس میں شاہ عبدالعزیز مرحوم موسم گرما میں قیام کیا کرتےتھے۔ یہاں پر شاہ فیصل نےایک بڑی لائبریری قائم کی اور محل کو میوزیم میں تبدیل کردیا۔

طائف شہر کو پھولوں، عطرسازی اور پھلوں میں انار اور انجیر کا شہربھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں کے گلاب سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔ طائف کے پھول اپنی جادوئی خوشبو کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور ہیں۔ اگرچہ یہاں بہت سے پھل دار پودے لگائے جاتے ہیں مگر انار ، انجیراور انگور کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

اس شہر میں 'الردف'نامی ایک خوب صورت سیرگاہ ہے جو شاہراہ شھار کے اطراف میں 565 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے چاروں اضلاع کی لمبائی 4 کلومیٹر ہے۔ اس میں ایک جھیل، پھولوں اور سبزے کی بارہ دری ، اوپن تھیٹر، سپورٹس گراؤنڈ اور دیگر اہم سہولتیں ہیں۔ یہاں پر جدید ٹیکنیکل سہولیات اور مختلف سرگرمیوں کےلیے بہترین ساؤنڈ اور سیکیورٹی سسٹم بھی موجود ہے۔

شاہ عبداللہ سیرگاہ ڈیڑھ لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں تین فوارے، دو جھیلیں اور 53 ہزار میٹر پر سبز وشاداب باغیچے ہیں۔

شمال مشرقی طائف میں 'سیسد' سیرگاہ بھی سیاحوں کی خاص توجہ کامرکز رہتی ہے۔ یہ گھنے جنگلوں کے ساتھ وادیوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔

گرمی کے موسم میں سیاحوں کا رش بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے طائف کی سیر کو آنے والے سیاحوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ یہاں آنے سے قبل اپنی رہائش کی بکنگ کرا لیں۔