.

تہران کا دوہرا معیار ۔۔۔ ایرانی کردوں سے دوستی اور عراقی کردوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ حالیہ دنوں میں تہران کے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایرانی اپوزیشن کی کرد جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی خبریں گردش میں آ رہی ہیں ... ایرانی پاسداران انقلاب نے بدھ کے روز عراقی کردستان میں کرد جماعتوں کے ہیڈ کوارٹر پر بم باری کر ڈالی۔ یہ کارروائی منگل کے روز پاسداران انقلاب کے ایک پیٹرولنگ پارٹی پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی۔ حملے میں تین عسکری اہل کار مارے گئے تھے۔

ایک اہم ایرانی کرد ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کی فارسی ویب سائٹ کو بتایا کہ پاسداران انقلاب نے عراقی کردستان میں جوانرود کے علاقے بالخصوص سیدکان گاؤں پر شدید بم باری کی۔ کارروائی میں توپ خانوں اور کیٹوشیا گرینیڈز کا استعمال کیا گیا۔ حملے کا مقصد عراق میں ایرانی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی کرد جماعتوں کے مرکز کو نشانہ بنانا تھا۔

ایرانی کردستان پارٹی کے ایک نمایاں رکن شاہو حسینی کے مطابق نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ نے منگل کے روز ایرانی کردستان کے علاقے پیران شہر میں پاسداران انقلاب کے ایک گشتی دستے پر حملہ کیا۔ اس کارروائی میں ایک مقامی کمانڈر سمیت پاسداران کے تین اہل کار ہلاک ہو گئے۔ حسینی نے بتایا کہ بدھ کے روز عراق میں ایرانی کرد جماعتوں کے علاقائی مراکز پر گولہ باری کی گئی جس میں زیتون نامی ایک عراقی کرد نوجوان لڑکی جاں بحق اور ایک عراقی کرد نوجوان زخمی ہو گیا۔

اس سے قبل ناروے کی وزارت خارجہ کے ایک ذیلی ادارے کے توسط سے ایرانی حکومت کے ایک وفد اور چار ایرانی کرد جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں۔

حسینی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ایران ،،، عراقی کردستان کی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے تا کہ وہ کردستان کی سرزمین پر ایرانی کرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر روک لگا دے۔

واضح رہے کہ "مدافعین مشرقی کردستان" نامی گروپ نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں ایران کے شہر پیرانشہر میں پاسداران انقلاب کے ایک دستے پر منگل کے روز دوران گشت حملہ کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔