.

ہزاروں فلسطینی پناہ گزینوں کی گرفتاری اور بے دخلی کے باوجود حماس بشار الاسد پر فریفتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی بیورو کے اہم رکن محمود الزہار کا کہنا ہے کہ حماس کے بشار الاسد کے زیر قیادت شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے کوششیں کی گئیں اور ان کوششوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

الزہار نے واضح کیا کہ "یہ بات حماس کے مفاد میں ہے کہ اسرائیل کے خلاف معاند موقف رکھنے والے تمام ممالک کے ساتھ تنظیم کے اچھے تعلقات ہوں ... اس حوالے سے شام، لبنان اور ایران کا واضح موقف ہمارے سامنے ہے"۔

الزہار نے بشار الاسد کی مدح سرائی کرتے ہوئے کہا کہ "شامی صدر نے ہمارے لیے تمام تر دروازے کھول دیے تھے .. ہم شام میں اس طرح نقل و حرکت کرتے تھے گویا کہ فلسطین میں چل پھر رہے ہیں ... اور پھر اچانک شام کے بحران کے پس منظر میں یہ تعلق برباد ہو گیا۔ میرے نزدیک اعلی بات یہ تھی کہ ہم بشار کا ساتھ نہ چھوڑتے اور ہم داخلی بحران میں بشار کے ساتھ اختلاف میں نہ پڑتے"۔

محمود الزہار کے مطابق شام نے نہ صرف حماس بلکہ تمام فلسطینی تنظیموں کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم پر لازم ہے کہ حق اور سچ کی بات بلند کریں خواہ یہ موقف بہت سے لوگوں کو مناسب نہ لگے"۔

جون 2018 میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اعلان کیا تھا کہ تنظیم نے دمشق کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کیے ہیں۔ ہنیہ نے شام میں جاری واقعات کو ایک "فتنہ" قرار دیا تھا جس کا مقصد بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر حسابوں کو بے باق کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بشار حکومت نے اس دوران ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار کیا اور جبری ہجرت پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں بالخصوص الیرموک کیمپ کو تباہ کر دیا گیا اور ان میں رہنے والوں کو واپس کیمپوں میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

حماس اور شامی حکومت کے درمیان تعلقات کو نقصان اس وقت پہنچا جب بشار الاسد حماس کے دفاتر کو بند کر دیا۔ اس کے بعد حماس نے دوحہ کا رخ کیا۔