.

اسرائیل کی حمایت پر عراقی ملکہ حسن کی شہریت منسوخ‌ کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کی حمایت پرعراقی ملکہ حسن کی شہریت منسوخ‌ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی ملکہ حُسن سارہ عیدان ان دنوں عراق کے عوامی، سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ ان پر تنقید کی لہر حال ہی میں ان کی طرف سے اسرائیل کی پر جوش حمایت اور فلسطینی تنظیم 'حماس' کی شدید مذمت کے بعد سامنے آئی ہے۔ سارہ کے مخالفین اور ناقدین نے اس کی عراقی شہریت منسوخ کرنے اور ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سارہ عیدان نے سنہ 2017ء کی ایک تصویر دوبارہ پوسٹ کی تھی جس میں اس نے اسرائیل کی حمایت کی تھی۔ اس نے اس ٹویٹ کے بعد لکھا کہ 'دو ہفتے قبل عراقی حکومت نے اقوام متحدہ میں میرے بیان کے بعد میری زبان بند کرنے کی کوشش شروع کی ہے، جیسا کہ مجھے اظہار رائے کا کوئی حق نہیں۔ اب یہ لوگ میری شہریت کے درپے ہیں۔ یہ ایک غیر انسانی اقدام ہوگا اور میں اب کھل کر بات بھی نہیں کرسکتی'۔

سارہ عیدان نے چند روز قبل جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کی حمایت اور فلسطینی تنظیم حماس کی مخالفت اور اس کی پالیسیوں کی مذمت کی تھی۔ اس نے کہا کہ عراقی حکومت مجھے تحفظ دینے کے بجائے مجھے قتل کی دھمکیاں دینے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ میرا جرم صرف یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ میں میری تصویر اسرائیل کی ملکہ حسن کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔

عیدان نے کہا کہ اسرائیل پر تنقید کرنے والے دہشت گرد تنظیم حماس کے بارے میں کیوں بات نہیں کرتے جس نے ایک ہفتے کی تعطیلات کے دوران 700 میزائل اسرائیل پر داغے تھے۔

عراقی پارلیمنٹ کی دفاع و سیکیورٹی کمیٹی کی طرف سے سارہ عیدان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے رکن علی الغانمی نے کہا کہ عیدان نے جو کچھ کیا ہے وہ 'جرم' ہے اور عراقی قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سارہ عیدان کی عراقی شہریت بھی منسوخ کی جاتی ہے تو ہم اس کی حمایت کریں‌ گے۔

سارہ عیدان نے 'ٹویٹر' پر پوسٹ‌ کی گئی ٹویٹ میں اقوام متحدہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عراق کے استبدادی نظام کو ختم کرنے کے لیے میں نے امریکا کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا۔ آج عراق میں جمہوریت قائم ہے مگر اس کے باوجود ہمیں تحفظ اور آزادی اظہار رائے کا حق حاصل نہیں‌ ہے۔