.

کیا ایردوآن 'ایس 400' دفاعی نظام کے حوالے سے 'قبرص ماڈل' اپنانے پر مجبور ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سخت مخالفت اور دباؤ کے باوجود روس کے فضائی دفاعی نظام' ایس 400' کی پہلی کھیپ ترکی پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف ترکی پر امریکا کی طرف سے سخت نوعیت کی اقتصادی پابندیوں کے ساتھ انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان 'ایف 35' جنگی طیاروں کی ڈیل سے ترکی کے باہرہونے کا قوی امکان ہے۔

ترکی اور امریکی انتظامیہ کے درمیان گذشتہ ایک سال سے روسی ساختہ دفاعی نظام 'ایس 400' کے حصول اور اسے روکنے کے لیے جنگ جاری ہے۔ امریکا نے ترک صدر پر 'ایس 400' دفاعی نظام کی خریداری روکنے کے لیے دبائو بڑھا دیا۔

حال ہی میں امریکی نیوز نیٹ ورک 'بلومبرگ' کی طرف سے نشر کردہ ایک رپورٹ میں بھی انقرہ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیض وغضب کو دعوت نہ دے اور امریکا کی متوقع خوفناک پابندیوں سے بچنے کے لیے 'ایس 400' سسٹم کی خریداری روک دے۔ تاہم ترکی نے امریکا کے دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 'ایس 400' دفاعی نظام خرید لیا ہے۔ ترکی 'نیٹو' تنظیم کا رکن ہونے کے باوجود روس سے یہ نظام خریدنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

پابندیوں سے بچنے کے لیے 'قبرص ماڈل'

مبصرین کا کہنا ہے کہ روس سے 'ایس 400' دفاعی نظام خریدنے کے بعد ترکی کو 'نیٹو' اور امریکا کی طرف سے غیر معمولی دبائو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترکی کے پاس ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے متعدد راستے اور آپشن موجود ہیں۔ ان میں سب سے آسان حل 'قبرص' ماڈل اختیار کرنا ہے۔ قبرص طرز کے حل کے بارے میں جاننے کے لیے تاریخ پر نظر ڈالنا پڑے گی۔

سنہ 1990ء کے عشرے کے آخر میں قبرص کی یونانی حمایت یافتہ حکومت نے روسی دفاعی نظام'ایس 300' خرید کیا تو اس کے نتیجے مں نیٹو کے رکن ترکی اور قبرص کے درمیان ایک بحران پیدا ہوگیا۔

نیٹو میں شامل ترکی نے قبرص کو دھمکی دی کہ اگر اس نے روسی دفاعی نظام کے حصوں کو جوڑ کر انہیں باقاعدہ آپریشنل حالت میں نصب کیا تو اس کے طیارے اس سسٹم کے میزائلوں کی زد میں‌ ہوں‌ گے۔ اس طرح ترکی اور یونان کے درمیان امن معاہدے کو بھی خطرات لاحق ہوگئے اور دونوں نیٹو ملک ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے۔

آخر کار امریکا کی ثالثی کے تحت یہ طے پایا کہ قبرص روسی دفاعی نظام 'ایس 300' کو یونان کے دور افتادہ جزیرے 'کریٹ' پر منتقل کرے تاکہ ترکی کے طیاروں کو اس نظام سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اس طرح ایتھنز اور انقرہ کے درمیان کشیدگی بھی ختم ہوگئی اور روس نے اس دفاعی سودے کی قیمت بھی وصول کر لی۔

مگر 'ایس 400' دفاعی نظام کا معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ نظام نہ صرف 'نیٹو' کے کسی ایک رُکن ملک کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ ہے۔ روس کا یہ جدید دفاعی نظام امریکا کے'ایف 35' طیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں‌ معلومات کے حصول کی صلاحیت بہم پہنچائے گا۔ اسی طرح ترکی کے لیے کسی دوسرے نیٹو رکن ملک میں اس نظام کو منتقل کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ترکی 'ایس 400' کے پرزہ جات خریدے مگر انہیں آپس میں جوڑے بغیر کسی مقام پر محفوظ کر لے۔ اگر ترکی 'ایس 400' کو ترکی میں موجود نیٹو کے کسی اڈے پرمنتقل کرتا ہے تو اس طرح ترکی اس سسٹم سے نیٹو کو خطرے میں ڈالنے سے بچ جائے گا۔ اس طرح روس اس سودے کی اڑھائی ارب ڈالر قیمت وصول کرلے گا اور قبرص ماڈل کی طرح یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

اگر ترکی 'ایس 400' کو آپریشن حالت میں نہیں لاتا تو کیا روس اس پر خاموش رہے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روس اس ڈیل کے ذریعے ترکی کو نیٹو سے دور کرنا چاہتا ہو۔ روس کے پاس ترکی پردبائو کے لیے متعدد آپشن ہیں۔ ان میں‌ قدرتی گیس کے مشترکہ منصوبے اور شام میں کھوکھلا تعاون خطرے وغیرہ۔ مگر ایردوآن جانتے ہیں کہ ترکی کی معیشت پر امریکا کا اثرو نفوذ روس سے زیادہ ہے۔