.

یمن کے مشہور کارٹونسٹ کو حوثی ملیشیا کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں

حوثی ملیشیا نے ظلم کی تمام حدیں پھلانگ دیں: سامر الشمیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے ہاتھوں عوام وخواص سب کی جان و مال خطرے سے دوچار ہوچکی ہے۔ حوثیوں کے جرائم پر تنقید کرنے والے کارٹونسٹ اورقلم کاروں کو ایران نواز ملیشیا کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

دھمکیوں کا سامنا کرنے والے یمنی شہریوں میں مشہور خاکہ ساز سامر محمد عبدہ الشمیری بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے انہیں مسلسل قتل جیسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی رہی ہیں۔ اپنی جان کا خوف لاحق ہے اور کسی بھی وقت مجھے جان سے مارا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صنعاء یونیورسٹی سے گریجوایشن کی ڈگری حاصل کرنے والے سامر عبدہ الشمیری کا پہلا کارٹون 1995ء میں اخبار میں چھپا جب وہ مڈل اسکول کے تعلیمی مرحلے میں تھے۔ اس کے بعد انہوں نے تعلیم کے ساتھ کارٹون سازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ گریجوایشن کے بعد الشمیری نے خاکہ سازی کو اپنا مستقل مشغلہ اور پیشہ بنا لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک عام تصویر کی نسبت کارٹون لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا زیادہ بہتر اور مناسب طریقہ ہے۔ اسی طرح خاکے اپنی رائے کے اظہار کا یہ ایک اچھوتا پہلو ہے جو پوری دنیا میں مروج ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سامر محمد عبدہ الشمیری نے کہا کہ یمن میں آزادی کے ساتھ کوئی قلم نہیں اٹھا سکتا۔ یمنی قوم پر ایک نسل پرست اور انتہا پسند گروپ مسلط ہے جو اپنے مخالفین کی زبانیں بند کرانے اور اپنی استبدادیت کے فروغ میں ہر طرح کے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں یمنی کارٹونسٹ نے کہا کہ ہم نے سابق مقتول صدرعلی عبداللہ صالح کا آمرانہ دور بھی دیکھا۔ علی صالح کی حکومت نے بھی قلم کاروں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر قدغنیں لگائیں مگر حوثیوں‌ نے پابندیوں کی انتہا کردی ہے۔ انتی سختیاں اور مشکلات علی عبداللہ صالح کے دور میں ہیں‌ دیکھیں جتنی اب حوثیوں کی وجہ سے دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ علی صالح کی حکومت کے تمام منفی پہلوئوں کے باوجود قلم کاروں، صحافیوں اور فن کاروں کو کسی نا کسی طرح آزادی اظہار کا حق حاصل تھا۔ علی صالح کے دور حکومت میں یمن میں کئی اپوزیشن جماعتیں کام کر رہی تھیں۔ ہمیں ملک چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ جمہوری حقوق سلب کیے جا چکے ہیں اور ہمیں طاقت کے ذریعے ملک سے نکال دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دسمبر 2017ء کو علی صالح اس دہشت گرد جماعت کے ہاتھوں قتل ہوئے جس کی وہ خود حمایت کر رہے تھے۔ میں اس وقت اخبار 'الیمن الیوم' کے ساتھ منسلک اور صنعاء میں مقیم تھا۔ علی صالح کے قتل کے بعد حوثیوں کی طرف سے ایک تحریر پیش کی گئی اور کہا گیا کہ اس پردستخط کرو۔

اس تحریر میں کہا گیا تھا کہ میں علی عبداللہ صالح کے قتل پر حوثیوں کی تنقید میں کارٹون نہیں بنائوں گا۔ اس یقین دہانی پرحوثیوں کی طرف سے مجھے اور میرے بچوں کو امان دی گئی۔ میں نے موقع پاتے ہی اپنے دوستوں کی مدد سے ملک چھوڑ دیا۔

ایک سوال کے جواب میں سامر الشمیری نے کہا کہ آن لائن اخبارات میں شائع ہونے والے میرے خاکوں پر تبصروں میں مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں‌ دی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مجھے ڈرایا دھمکایا اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود میں کسی دبائو میں نہیں آئوں گا اور نہ ہی اپنا مشن چھوڑوں‌ گا۔