.

ایرانی ڈرونز کی پہلی مرتبہ عراقی علاقے میں کرد ٹھکانوں پر بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے علاقے کردستان میں کئی روز سے ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی کُردوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دیکھا جا رہا ہے۔ مذکورہ کردوں نے اپنے ہیڈ کوارٹرز عراقی سرزمین پر بنا رکھے ہیں۔ ایران کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران کی سرحدوں سے باہر بالخصوص کردستان ریجن میں عراقی سرزمین پر موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے پہلی مرتبہ ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق پاسداران انقلاب کی زمینی فوج نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے عراقی کردستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی ہے۔ بیان کے مطابق یہ اقدام ایران کے مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں حالیہ "دہشت گرد" کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسا نظر آ رہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ڈرون طیاروں کے یونٹ کو قائم کر کے مختصر عرصے میں اسے ترقی دی ہے۔ یہ پیش رفت بالعموم ایرانی فضائیہ اور بالخصوص پاسداران انقلاب کی زمینی فوج کی کمزوری کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔

پاسداران انقلاب کی زمینی فوج کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے جنوری 2017 میں ڈرون طیاروں کا یونٹ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ایک سال بعد یونٹ کے طیاروں نے ایران کے شمال مغرب میں واقع دو صوبوں کردستان اور مغربی آذربائیجان میں کرد علاقوں میں ہونے والی مشقوں میں حصہ لیا۔

مہاجر M-6 ڈرون

آج "مہاجرM-6 " طیارہ ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ میں ڈرون طیاروں کے یونٹ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کا دعوی ہے کہ مذکورہ ڈرون طیارہ ایران کا ڈیزائن اور تیار کردہ ہے۔ یہ اسمارٹ فضائی بموں سے لیس کیا گیا ہے جو اپنے ہدف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بناتا ہے۔ اس کی پہنچ 2000 کلومیٹر تک ہے۔ یہ ڈرون طیارہ جاسوسی اور بم باری کا مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بعض رپورٹوں کے مطابق ایران کی سرحدوں سے باہر "مہاجر" سیریز کے ڈرون طیاروں کی مختلف اقسام استعمال میں آ رہی ہیں۔ تہران کے حلیفوں اور ایجنٹوں کو یہ طیارے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ایران نے وینزویلا اور ایکواڈور کو ایسے متعدد طیارے فروخت کیے ہیں۔

ایران نے "مہاجر 4" ڈرون طیارہ 1990 میں افغانستان میں خانہ جنگی کے دوران استعمال کیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ سرحد پر صورت حال کی نگرانی کی جا سکے۔

جنگی امور سے متعلق ویب سائٹ "war is boring" کی ایک رپورٹ میں عراق کے اندر اس طرز کے ایرانی ڈرون طیاروں کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس امر کو عراقی فورسز اور وہاں پر مصروف عمل عسکری مشیروں کی سپورٹ سے منسوب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے "عسکری مشیر" کی اصطلاح شام اور عراق میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کے واسطے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ عسکری مشیر دونوں ملکوں میں تہران کے سیاسی نفوذ کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ وہ پہلی تنظیم شمار ہوتی ہے جس نے 2004 میں "مہاجر 4" ماڈل کے ایرانی ڈرون طیارے حاصل کیے۔ حزب اللہ نے اس طیارے کو "المرصاد 1" کا نام دیا۔

ایرانی سرحد سے باہر مہاجر M-6 ڈرون کا استعمال

امریکی نیوز ویب سائٹ "ڈیلی بیسٹ" کے مطابق شام کا آسمان ان طیاروں کی آماجگاہ تھا۔ ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے ان ڈرون طیاروں نے شامی اپوزیشن کے ٹھکانوں پر بم باری میں قابل ذکر کردار ادا کیا۔

اسی طرح ایران پر الزام ہے کہ اس نے حوثیوں کے لیے ڈرون طیاروں کے فاضل پرزہ جات اسمگل کیے اور انہیں اسمبل کرنے کی ٹکنالوجی منتقل کی۔ اس کا مقصد یمنی فوج کے عسکری اہداف اور مملکت سعودی عرب میں شہری اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے جمعے کے روز بعض تصاویر جاری کی ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ تصاویر اُن کرد اہداف کی ہیں جن کو ایرانی ڈرون طیاروں نے بم باری کا نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ "قائم" بموں سے لیس "مہاجر" ڈرون طیارے کو ایران کی سرحد سے باہر کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔