.

ترکی نے عراق میں‌ کردوں کے خلاف نیا فوجی آپریشن شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج نے شمالی عراق میں کرد ملیشیا کے خلاف ایک نیا آپریشن شروع کیا ہے۔ ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن 'کردستان ورکرزپارٹی' کے عسکریت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق عراق میں شروع کردہ کارروائی کو'آپریشن کلچ 2' کا نام دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران عراق کے ھاکورک کے مقام پر کرد ملیشیا کے ٹھکانوں، بنکروں اور دیگر مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عراق میں کرد باغیوں کے خلاف ترک فوج نے جمعہ کی شام نیا آپریشن شروع کیا۔ آپریشن میں توپ خانے کے ساتھ کردوں کے ٹھکانوں‌پر فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کرد ورکرز پارٹی نے سنہ 1984ء کو ملک کے جنوب مشرق میں خود مختاری کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا تھا۔ اس کے بعد کردوں اور ترک فوج کے درمیان مسلسل جنگ جاری ہے اور اب تک دسیوں ہزار افراد اس جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔

ترکی کے ساتھ امریکا اور یورپی یونین بھی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔ یہ گروپ شمالی عراق میں قندیل پہاڑوں پر متمرکز ہے۔

گذشتہ مئی میں ترک فوج نے 'آپریشن کلچ 1' شروع کیا جس میں‌ عراق میں غارا، زاب اور افشین کے مقامات پر کردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔