.

جنگ کی صورت میں ایران، اسرائیل پر بمباری کی اہلیت رکھتا ہے: حسن نصر اللہ

’’لبنان کی حکومت کے پاس غیر مُلکی دباؤ برداشت کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی تہران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا ہے ’’کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد امریکی اتحادی اسرائیل’غیر جانبدار‘ نہیں رہے گا۔‘‘

حسن نصراللہ نے امریکا کی طرف سے تنظیم سے وابستہ دو ارکان پارلیمںٹ پر پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا یہ پابندیاں دوطرفہ جنگ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر جماعت پرپابندیاں عاید کی جاتی ہیں تو ریاست کے پاس دبائو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

حزب اللہ کے زیر انتظام عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے’’المنار‘‘سیٹلائیٹ ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے خصوصی انٹرویو میں حسن نصر اللہ نے ایک سوال کا دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایران، اسرائیل پر پوری طاقت اور خوںخاری سے بمباری کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

حسن نصر اللہ کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف لفظی جنگ کو مزید ہوا دے رکھی ہے۔

حزب اللہ کے رہنما نے کہا کہ’’امریکیوں کو جب یہ بات سمجھ آتی ہو کہ یہ جنگ اسرائیل کا صفایہ کر سکتی ہے، تو وہ ایسی جنگ کے بارے میں کئی مرتبہ سوچیں گے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ خطے میں ایران کے خلاف امریکی جنگ روکنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

حسن نصراللہ نے شام میں اپنے جنگجوئوں کی تعداد کم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں اس امرکی تصدیق کی ان کی تنظیم حزب اللہ میں اپنا اثرونفوذ کم کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کا ہرجگہ موجود ہونا ضروری نہیں۔ حزب اللہ جنگجوؤں کی تعداد میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں بشارالاسد کی فوج نے اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ اس لیے اب حزب اللہ کا شام میں موجود اپنے جنگجوئوں کو کم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم اس سے قبل سامنے آنے والے اطلاعات میں شام میں حزب اللہ کے جنگجوئوں ‌کی تعداد میں کمی کو تنظیم کو درپیش مالی بحران اور امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

چند روز قبل لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے امریکا کی طرف سے حزب اللہ کے دو ارکان پارلیمنٹ کو بلیک لسٹ کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے حالات کی تبدیلی کے لیے اہم موڑ قرار دیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں سے لبنانی پارلیمنٹ یا حکومت پرکوئی اثرنہیں پڑے گا۔ سعد حریری کا کہنا تھا کہ ہم امریکی پابندیوں سے مناسب طریقے سے نمٹیں گے۔

اس کے مقابلے میں لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے حزب اللہ ارکان پارلیمنٹ پر پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایوان کی توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سے یہ سوال بنتا ہے کہ وہ جمہوریت کا پرچار کرتا ہے، ایسے میں کیونکر وہ جمہوری اداروں سے وابستہ افراد پر پابندیاں لگا کر جمہوریت کا گلہ کاٹ رہا ہے۔

امریکا، حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم گردانتا ہے۔ لبنان میں 1975-1990 کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے حزب اللہ واحد ایسی تنظیم ہے، جسے داخلی لڑائی کے بعد غیر مسلح نہیں کیا گیا۔

بحر متوسطہ کے ساحل پر واقع چھوٹے سے ملک لبنان میں حزب اللہ ایک بڑی سیاسی کھلاڑی ہے۔ گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں اسے 128 رکنی پارلیمنٹ کی 13 نشتوں پر کامیابی ملی جبکہ موجودہ کابینہ میں اس کے تین وزیر بھی ہیں۔