.

حماس اسرائیل جنگ بندی کے تسلسل کے لیے مصری وفد کی غزہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری عہدے داران کا ایک وفد ثالثی کی حیثیت سے غزہ پٹی پہنچا ہے۔ یہ پیش رفت قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے حماس کے ایک رکن کی ہلاکت کے ذیل میں غزہ پٹی کی سرحد پر پھر سے کشیدگی پھیل جانے کے اندیشے کے بعد سامنے آئی ہے۔

مصری وفد نے جس میں مصری جنرل انٹیلی جنس کے اہم ذمے داران شامل ہیں، غزہ میں حماس اور دیگر گروپوں کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔

حماس کے ایک ذمے دار صلاح البردویل کے مطابق بات چیت کا محور حماس اور اسرائیل کے درمیان غیر سرکاری جنگ بندی تھی جس میں مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ حماس تنظیم اور صدر محمود عباس کے زیر قیادت فتح موومنٹ کے درمیان مصالحت کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔

ادھر غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ کے نزدیک ہفتہ وار مظاہروں کے سلسلے میں پانچ مقامات پر ہزاروں فلسطینی اکٹھا ہو گئے۔ ان مظاہروں کا آغاز گزشتہ برس حماس تنظیم کی جانب سے کیا گیا تھا۔ مظاہروں کا مقصد 2007 سے جاری غزہ پٹی کے محاصرے کے خلاف احتجاج ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ ہفتہ وار مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 33 فلسطینی زخمی ہو گئے۔