.

روس کی جانب سے ترکی کو فضائی دفاع سے متعلق مزید ساز وسامان کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت دفاع نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ روس نے ہفتے کے روز فضائی راستے سے فضائی دفاع سے متعلق جدید ساز وسامان کی نئی کھیپ ترکی بھیجی ہے۔

یہ پیش رفت اس ڈیل پر عمل درامد کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غلباً امریکا، انقرہ پر پابندیاں عائد کر دے گا۔

وزارت کے بیان کے مطابق اس سلسلے میں روس کا چوتھا کارگو جہاز دارالحکومت انقرہ کے نزدیک مرتد کے فضائی اڈے پر اترا۔ اس سے ایک روز پہلے روسی فضائیہ کے اے این 124 ماڈل کے تین دیو ہیکل کارگو جہازوں نے اسی اڈے پر ساز وسامان پہنچایا تھا۔

واشنگٹن کی جانب سے کئی ماہ سے اس سودے کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ امریکا پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر ترکی نے روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے سودے پر عمل درامد جاری رکھا تو انقرہ پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ ان پابندیوں میں امریکی ساختہ F-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق خصوصی پروگرام میں ترکی کی شراکت کا خاتمہ اور جدید ترین F-35 لڑاکا طیاروں پر ترکی کے ہوا بازوں کی تربیت کا عمل معطل کر دینا شامل ہے۔

ترکی یہ باور کراتا ہے کہ میزائل دفاعی سسٹم ایک تزویراتی دفاعی ضرورت ہے۔ بالخصوص شام اور عراق کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد کو محفوظ بنانے کے واسطے یہ ناگزیر ہے۔ ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وہ روس کے ساتھ S-400 سسٹم کی خریداری کا معاہدہ طے کر رہا تھا تو اُس وقت امریکا اور یورپ نے ترکی کو مناسب متبادل پیش نہیں کیا۔

نیٹو اتحاد میں دو سب سے بڑی افواج رکھنے والے دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف نے مغربی عسکری اتحاد کے اندر گہرا انقسام پیدا کر دیا ہے۔

امریکی قائم مقام وزیر دفاع مارک ایسپر نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔ بعد ازاں ایسپر نے ٹیلی فون پر اپنے ترک ہم منصب حلوصی آکار سے بات چیت کی۔

ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق ترک وزیر حلوصی آکار نے اپنے امریکی ہم منصب کو آگاہ کر دیا کہ ترکی کو ابھی تک سنگین نوعیت کا فضائی اور میزائل خطرہ درپیش ہے لہذا روسی دفاعی میزائل سسٹم کی خریداری اختیاری نہیں بلکہ یقیناً ایک ضرورت ہے۔

اس ڈیل کی وجہ سے ترکی میں سرمایہ کاروں کو تشویش محسوس ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ واشنگٹن کے ساتھ ایک سال سے جاری اختلاف کے بعد اب انقرہ پر پابندیاں عائد ہونے کا امکان ہے۔ جمعے کے روز ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرہ کی قیمت میں 1.6 فی صد کمی واقع ہوئی۔ اس طرح ایک ڈالر کی قیمت 5.7780 لیرہ ہو گئی۔ تاہم بعد ازاں لیرہ کی قدر بہتر ہو گئی۔

روسی خبر رساں ایجنسی نے ایک عسکری سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ موسم گرما کے اواخر میں 120 گائیڈڈ میزائلوں کی ایک کھیپ سمندر کے راستے ترکی پہنچے گی۔