.

انقلاب کے ’دوسرے مرحلے‘ میں دشمن عزت گنوا دے گا: پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمان دار نے کہا ہے کہ اسلامی انقلاب کے ’’دوسرے مرحلہ‘‘ کے آغاز کے بعد سے تہران کے خلاف فوجی دھمکیاں مؤثر نہیں رہی ہیں۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے ذریعے سامنے آنے والی وارننگ میں ایرانی کمانڈر نے کہا کہ دشمن اپنی ہی غلطی سے عزت خاک میں ملا لے گا۔

پاسداران انقلاب کے سابق کمان دار محمد علی جعفری نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی پانچویں دہائی میں دی جانے والی دھمکیاں ماضی میں دی گئی ایسی واننگز سے مختلف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’دشمن جانتا ہے کہ اگر اس نے کسی غلطی کا ارتکاب کیا تو اسے اپنی عزت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔‘‘ جعفری کے بقول پاسداران انقلاب نے 20 جون کو امریکی ڈرون گرا کر انقلاب کی عظیم فوجی کامیابیوں کا ایک باب رقم کیا ہے۔

انقلاب ایران کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ پر ’’انقلاب کے دوسرے مرحلے کا بیان‘‘ کے عنوان سے ایک دستاویز شائع کی گئی۔ اس دستاویز میں علی خامنہ ای کی جانب سے مستقبل کے حوالے سے رہنما اصول بتائے گئے تھے۔

دستاویز میں علی خامنہ ای نے متعدد معاملات، بشمول خارجہ پالیسی، معشیت اور طرز زندگی سے متعلق ہدایات دی تھیں۔ خارجہ پالیسی سے متعلق رہبر اعلی نے بتایا کہ ’’ایران کو اپنی قومی انقلابی اقدار سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے اور اسے ان [دشمن] کی باطل دھمکیوں سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ دستاویز میں مزید کہا گیا تھا کہ آج ایرانی قوم امریکا کی مجرم حکومت سمیت متعدد یورپی حکومتوں کو بھی دھوکے باز اور ناقابل اعتبار سمجھتی ہے۔

علی خامنہ نے امریکا سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کے بارے میں اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ’’امریکا سے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا بلکہ اس کے الٹے مادی اور روحانی نقصانات ہوں گے۔‘‘

ایرانی معیشت سے متعلق دستاویز میں علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’’کمزور معاشی کارکردگی نے ایران کو اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’دشمن کی لگائی گئی پابندیاں‘ بیرونی جبکہ ’انتظامیہ کمزوریوں اور ڈھانچے کی خرابیوں‘ کی صورت میں ملک کو چیلنج درپیش ہیں۔