.

ایردوآن کے متنازعہ اقدامات، ترکی کی کریڈٹ ریٹنگ بنگلہ دیش سے بھی نیچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے ملک میں اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے اٹھائے گئے بعض اقدامات کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تنقید کا باعث بننے والے دیگر اقدامات میں حال ہی میں صدر ایردوآن کا مرکزی بنک کے گورنر کو بر طرف کرنا بھی شامل ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ترکی کے مرکزی بنک کے گورنری کی برطرفی ترک معیشت کی زبوں حالی کا کھلا ثبوت ہے۔

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی 'فیٹچ' نے مستقبل کے معاشی حالات کے پیش نظر ترکی کا درجہ کم ک رکے BB- کر دیا ہے۔ آسان لفظوں میں‌ یوں سمجھیے کی ترکی یونان، برازیل اور بنگلہ دیش جیسے مقروض سے بھی تین درجے نیچے چلا گیا ہے۔

فیٹچ کمپنی کی طرف سے 2018ء کے بعد ترکی کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کا یہ آٹھواں‌ موقع ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ترک لیرہ کی عالمی منڈی میں قیمت میں 30 فی صد کمی اور افراط زر میں 25 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

فیٹچ کی طرف سے ترکی کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے عالمی اقتصادی ادارے ترک صدر کی معاشی شعبے میں‌ مداخلت پر بار بار خبردار کر چکے ہیں۔ ترکی کے مرکزی بنک کے گورنر کی برطرف اس حوالے سے ایک غیر مسبوق اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ترکی کی معیشت کو کئی بڑے جھٹکے لگنے والے ہیں۔ امریکا نے روس کے 'ایس 400' دفاعی نظام کی خریداری پر ترکی کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلانات پر عمل درآمد کیا تو ترکی معیشت کو مزید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔