.

حوثیوں کی بلیک مارکیٹ کا مقابلہ، یمنی ریال کی قیمت کم کر دی گئی

حوثیوں پر کرنسی ویلیو میں کمی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مرکزی بنک نے ایران نواز حوثی ملیشیا کی بلیک مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے یمنی ریال کی قیمت مزید کم کردی ہے۔ کمی کے بعد 506 یمنی ریال ایک ڈالر کے برابر آگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے مرکی بنک کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی کرنسی کی قیمت میں کمی کی ذمہ دار حوثی ملیشیا ہے جس نے پورے ملک میں‌لوٹ مار اور بلیک مارکیٹ کا بازار گرم کررکھا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، بلیک مارکیٹ کا تیزی سے پھیلائو اور ملک میں جاری اقتصادی بحران حوثیوں کے پیدا کردہ مسائل ہیں۔

عدن میں قائم یمن کے مرکزی بنک نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ حوثیوں کی قائم کردہ بلیک مارکیٹ کا مقابلہ کرنےکے لیے ریال کی قیمت ایک ڈالر کے مقابلے میں 506 یمنی ریال کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل یمنی ریال کی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں قیمت میں استحکام دیکھا گیا تھا۔ یمنی ریال ایک ڈالر کے مقابلے میں 585 اور ایک سعودی ریال کےمقابلے میں 152 کے تناسب سے خریدار جاتا رہا ہے۔

سنہ 2018ء‌کو سعودی عرب نے یمنی کرنسی کے استحکام کے لیے یمن کے مرکزی بنک میں 20 کروڑ ڈالر کی رقم ڈیپازٹ کی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی باغی قوم سے انتقام لینے کےلیے قومی کرنسی کے ساتھ کھلواڑ اور بلیک مارکیٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔