.

علی خامنہ ای کے دستِ راست شدت پسند رہ نما شورائے نگہبان کے پھر سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دست راست اور سخت گیر مذہبی لیڈر آیت اللہ احمد جنتی کو ایک بار پھر شورائے نگہبان (گارڈین کونسل) کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ 93 سالہ احمد جنتی سنہ 1992ء اس کلیدی عہدے پر فائز چلے آ رہے ہیں۔

ایران کی گارڈین کونسل ملک کا سپریم ریگولیٹری ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ 12 ارکان پرمشتمل ہے جن میں سے ولایت فقیہ کے درجے کے چھے مذہبی لیڈر شامل ہوتے ہیں۔ ان کا تقرر براہ راست سپریم لیڈر کرتا ہے۔ چھے ارکان کا تقرر پارلیمنٹ کرتی ہے۔ وہ انسانی حقوق کے علم بردار کہلاتے ہیں مگر ان کا تقرر بھی سپریم لیڈر کی منظوری اور موافقت سے مشروط ہوتا ہے۔

دستوری تحفظ کونسل یا گارڈین کونسل ایران میں پارلیمنٹ یا مجلس شوریٰ کی قانون سازی کی نگرانی کرتی ہے تاکہ ایران میں نافذ خود ساختہ شریعت کے خلاف کوئی قانون منظور نہ کیا جا سکے۔ یہ کونسل شوریٰ کے ارکان کے انتخاب سے قبل ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرتی، صدارتی امیدواروں کی اہلیت جانچتی اور خبرگان کونسل کے ارکان کے بارے میں اپنی سفارشات پیش کرتی ہے۔

علامہ آیت اللہ احمد جنتی کو سپریم لیڈر کے مقربین میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں‌ نے ماضی میں سیکڑوں 'ناپسندیدہ' شخصیات کو پارلیمنٹ کا رُکن بننے، صدارتی انتخابات میں‌ حصہ لینے اور خبرگان کونسل میں شامل ہونے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ایران میں سنہ 1980ء میں ثقافتی انقلاب کے دور میں احمد جنتی نے الاھواز شہر میں جامعہ جندی شابور میں مخالفین کے قتل عام میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ جنتی اس وقت شہر میں ایک مسجد میں جمعہ کے خطیب تھے۔ ان کے حکم پر یونیورسٹی کے دسیوں طلبہ کو حراست میں لے کر انہیں اذیتیں دی گئیں اور بہت سے طلبہ کو جان سے مار دیا گیا۔

منگل کو سپریم لیڈر نے دستوری کونسل کی تشکیل نو کا اعلان کرتے ہوئے تین نئے ارکان محمد دہقان، محمد حسین صادقی مقدم اورہادی طحان نظیف کو کونسل میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ فقہاء میں علی رضا اعرافی کو نیا رکن مقرر کیا گیا ہے۔