.

ایران کی مشرقی موصل میں قونصل خانہ کھولنے کی کوشش، مسیحی آبادی مُشتعل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حکومت نے عراق کے شہرموصل میں قونصل خانہ کھولنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ دوسری جانب ایران کے اس اقدام پرموصل کی مسیحی آبادی سخت مشتعل دکھائی دیتی ہے۔

ادھر دوسری جانب عراق کے مختلف شہروں میں ایران کی حمایت یافتہ الحشد الشعبی ملیشیا نے اپنے مستقبل کے حوالے سے نئے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ مشرقی موصل میں نینویٰ کے پہاڑی علاقوں میں الحشد ملیشیا نے الخمینی مدرسہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ الحشد نے شہر میں عیسائی کمیونٹی کی املاک پربھی ہاتھ صاف کرنا شروع کردیے ہیں۔ اس علاقے میں الحشد ملیشیا کی سرگرمیوں کا مقصد آبادی کا توازن تبدیل کرتے ہوئے خمینی انقلاب اور انتہا پسندانہ نظریات کی تشہیر کرنا ہے۔

الحشد ملیشیا کی طرف سے یہ سرگرمیاں ایک ایسےوقت میں دیکھی جا رہی ہیں جب ایرانی سفیر نےعراق میں مسیحی شہریوں کی املاک پر موصل میں ایرانی قونصل خانہ قائم کرنے کی تگ و دوشروع کررکھی ہے۔

مشرقی موصل میں ایرانی قونصل خانے کے قیام کی کوششوں کے بعد مقامی عرب قبائل بھی حرکت میں آگئے ہیں اوراُنہوں نے ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے نئی تحریک شروع کردی ہے۔

نینویٰ کے علاقوں میں موجود عیسائی آبادی نے مشرقی موصول میں ایرانی قونصل خانے کے قیام کی کوششیں ناکام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی عیسائی آبادی کا کہنا ہے کہ ایرانی قونصل خانہ ان کی املاک کی قیمت پرقائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عیسائی آبادی نے عراقی حکومت پرزور دیا ہے کہ وہ ایرانی توسیع پسندی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے اور قونصل خانے کےقیام کی آڑ میں ایران کو مشرقی موصل میں اپنی مکروہ سرگرمیوں کی اجازت نہ دے۔