.

روس کی شام میں حکمت عملی تبدیل، ایلیٹ فورس اسدی فوج کے ہمراہ لڑائی میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شام میں اپنی ایلیٹ فورس کی ذمہ داری کی نوعیت تبدیل کرتے ہوئے اسپیشل فورسز کو باقاعدہ طور پر بشار الاسد کی فوج کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق شام میں مسلح عناصر کی طرف سےخبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کو بتایا گیا کہ روس نے شام میں اسپیشل فورس پر مُشتمل نئی کمک بھیجی ہے جو شام میں بشار الاسد کی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔

اپوزیشن کے حامی مسلح جنگجوئوں‌ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل شام میں روس کی اسپیشل فورس کو صرف آپریشن کارروائیوں کے احکامات دینے کی ذمہ داری تک محدود کیا گیا تھا جو براہ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیتی تھی مگر اب روس کی اسپیشل فورس باقاعدہ لڑائی میں‌ حصہ لے گی۔

مسلح عناصر کا کہنا ہے کہ روس کی حکمت عملی میں‌ تبدیلی کا مقصد شمال مغربی شام میں اپوزیشن کے زیر انتظام آخری علاقے میں دو ماہ سے جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن رنما لوئی حسین نے بشار الاسد رجیم کی ملک پر گرفت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد رجیم اس وقت ایک گائوں کے انتظامات سنبھالنے کی پوزیشن میں‌ بھی نہیں رہی ہے۔ ملک کے تمام اہم عہدے اور ذمہ داریاں روسیوں‌ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ روس نے شام میں مداخلت کر کے نصف ملین لوگوں کو قتل کر ڈالا اور اب ماسکو شام کے تمام کلیدی شعبوں پر بھی قابض ہو چکا ہے۔