.

ایران نے یرغمال بنایا ایک برطانوی بحری جہاز چھوڑدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی شپنگ کمپنی 'نورپالک' نے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے جمعہ کی شب یرغمال بنائے اس کے تیل بردار بحری جہاز ' مسدار' کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس جہاز کو ایرانی پاسداران انقلاب کے مسلح اہلکاروں نے جمعہ کی شب آبنائے ہرمز سے گذرتے ہوئے روک لیا تھا۔

کمپنی کی طرف سے جاری ایک بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ جہاز کے کپتان سے رابطہ بحال ہوگیا ہے۔ جہاز کو یرغمال بنانے والے مسلح اہلکار چلے گئے ہیں، تمام عملہ بہ حفاظت ہے اور جہاز اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔

قبل ازیں بحری جہازوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے والے ادارے 'ریونٹیو' کی طرف سے کہا گیا تھا کہ برطانوی کمپنی کا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں راستہ تبدیل کر کے دوسری مرتبہ ایران کی طرف لے جایا گیا ہے تاہم کچھ دیر کے بعد وہ جہاز اپنا واپس خلیج عرب کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب برطانیہ نے بتایا کہ اس کے دو تیل بردار جہازوں مسدار اور اسٹینا امپیرو کا راستہ تبدیل کر کے ایرانی ساحل کی طرف لے جایا گیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' کے مطابق 'مسدار' آئل ٹینکر کو روکا نہیں گیا تاہم اسے وارننگ دینے کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے جب کہ ایرانی فوج نے دوسرے تیل بردار جہاز اسٹینا امپیرو کو روکنے کے بعد بندر عباس بندرگاہ منتقل کردیا ہے۔