.

برطانوی تیل بردار بحری جہاز 'اسٹینا امپیرو' ایران کی بندرعباس پر منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے قبضے میں لیے گئے برطانوی تیل بردار جہاز کو بندر عباس بندرگاہ پرلے جایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے ایک سینیر حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی آئل ٹینکر ایرانی ماہی گیروں کی کشتی سے ٹکرا گیا تھا۔ کشتی کی طرف سے جہاز کو وارننگ دی گئی مگر اس پرتوجہ نہیں‌ دی گئی۔ اس واقعے کے بعد آئل ٹینکر 'دی اسٹینا امپیرو' کو بندر عباس بندرگاہ پرمنتقل کردیا گیا ہے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تیل برادر جہاز پرعملے کے 23 افراد سوار ہیں۔ ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔

یران کے جنوبی صوبے ھرمزجان کے بندرگاہوں کے امور کے ڈائریکٹر جنرل مراد اللہ عفیفی بور نے 'فارس' کو بایا کہ برطانوی تیل بردار جہاز ایرانی ماہی گیروں کی کشتی سے ٹکرا گیا تھا۔ جہاز کو کشتی کی طرف آتے دیکھ کر اسے رکنے کے لیے پیغام بھیجا گیا مگر اس نے توجہ نہیں کی۔ اس جہاز پربرطانوی پرچم لہرا رہا تھا۔

عفیفی نے بتایا کہ برطانوی تیل بردار جہاز اس وقت بندر عباس بندرگاہ پر ہے۔ اس پر موجود تمام 23 افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد جہاز کو چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں‌نے بتایا کہ یرغمال بنائے گئے جہازپر18 بھارتی، پانچ روسی جب کہ فلپائن اور لیٹوانیا کا ایک ایک شہری سوار ہے۔

ادھر ایران نے جمعہ کی شام بتایا تھاکہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز پر برطانیہ کےدو بحری جہاز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر روک لیے ہیں۔ بعد ازاں 'مسدار' نامی تیل بردار جہاز کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

تیل بردار جہازوں کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے دو بحری جہازوں 'مسدار' اوراسٹینا امپیرو کو آبنائے ہرمز میں خلیج عرب کی طرف جاتے ہوئے ایران کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔