.

برطانیہ کی اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے باہر رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے اپنے بحری جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عارضی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کے علاقے سے "باہر" رہیں۔ یہ پیش رفت ایران کی جانب سے ایک برطانوی پرچم بردار آئل ٹینکر کو تحویل میں لینے کے بعد سامنے آئی ہے۔

برطانوی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان مین کہا ہے کہ "ہم بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے واضح چیلنج بننے والے ایران کے ان ناقابل قبول تصرفات کے سبب ابھی تک گہری تشویش محسوس کر رہے ہیں۔ ہم نے برطانوی جہازوں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ عارضی طور پر علاقے سے باہر رہیں"۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ہفتے کے روز ایک ذمے دار کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی تیل بردار جہاز دار جہاز 'اسٹینا امپیرو' ایک ایرانی شکاری کشتی سے ٹکرا گیا تھا اور اس حوالے سے مدد کی اپیل بھی نظر انداز کر دی۔

ایجنسی کے مطابق ذمے دار کا کہنا ہے کہ تحویل میں لیے جانے والے جہاز کے عملے کے 23 افراد اس وقت بندر عباس بندرگاہ پر موجود ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک وہ جہاز پر ہی رہیں گے۔

برطانیہ نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران نے دو تیل بردار بحری جہازوں "مسدار" اور "اسٹینا امپیرو" کو تحویل میں لے لیا ہے۔ اس سے قبل دونوں جہازوں نے اپنا رخ تبدیل کر کے ایرانی ساحل کی جانب حرکت شروع کر دی تھی۔

بعد ازاں ایرانی پاسداران انقلاب نے جمعے کی شب "مسدار" تیل بردار جہاز کو آزاد کر دیا تھا۔