.

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کے معاون کو جیل میں فالج کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے جیل میں قید معاون خصوصی محمود احمدی بقائی کو دماغی فالج کا حملہ ہوا ہے جس کے نتیجےمیں ان کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے سابق صدر کے معاون خصوصی پر حکومت کی طرف سے مبینہ مالی بدعنوانی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'ایلنا' کے مطابق احمدی بقائی کے وکیل مہران عبداللہ بور کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو شدید نوعیت کا دماغی عارضہ لاحق ہوا ہے۔ انہیں تہران کےایک اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

عبداللہ بور کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو دماغی عارضہ 20 دن قبل ہوا مگر حکام نےاُنہیں ایک ہفتہ قبل اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔

انہوں‌ نے کہا کہ انتظامیہ ان کے موکل کی تشویشناک حالت کے باوجود انہیں اسپتال منتقل کرنے میں مسلسل پس وپیش سےکام لیتی رہی اور پندرہ دن تک انہیں اسپتال نہ لے جاسکا جس کے نتیجے میں ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

عبداللہ بور کاکہنا تھا کہ نا مناسب خوران پروٹین اور وٹامن کی کمی ان کے موکل محمود احمدی بقائی کی خرابی صحت کی وجہ بنی ہے۔

خیال رہے کہ اسپتال منتقل کرنے سے قبل احمدی بقائی تہران کی 'ایفین' جیل میں قید تھے جہاں انہیں کرپشن کے الزامات میں 15 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ ان کی خرابی صحت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ وہ پہلے بھی متعدد بار جیل میں بے ہوش ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیے گئے تھے۔ ان پر 35 لاکھ یور خرد برد کرنے اور فیلق القدس کے ساڑھے ساتھ لاکھ ڈالر غبن کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ محمود احمدی بقائی ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔