.

عربی زبان میں بادشاہوں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کے اسرار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی زبان میں بادشاہ کے لیے مختلف نوعیت کے ناموں کا استعمال ہوتا ہے۔ ان میں دور جاہلیت میں ثابت ناموں کے علاوہ بعد از اسلام ادوار میں سامنے آنے والے الفاظ بھی شامل ہیں۔

عربوں نے (مَلِك) کا لفظ زمین پر اعلی ترین اختیارات کی حامل شخصیت کے اظہار کے لیے اپنایا۔ عربوں کے یہاں ملك اعلی ترین فرماں روا ہے جو کبھی مامور نہیں ہوتا۔ عربی زبان نے ملك اور سلطان کے الفاظ میں تفریق کی ہے اور ملك کا نام سلطان کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔

ابن سيّده نے اپنی کتاب (المخصص) میں بیان کیا ہے کہ لفظِ سلطان کی اصل "السليط" ہے یعنی کہ سلطان کا لفظ السلیط سے نکلا ہے اور السلیط کا معنی الزیت (تیل) ہے۔

تاج العروس لغت میں تصدیق کی گئی ہے کہ السلیط عموما عربوں کے یہاں الزیت (تیل) کو کہتے ہیں۔ اہل یمن الزیت کا لفظ تلوں کے تیل کے واسطے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اہل یمن کے حوالے سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ بھی الزیت (تیل) کو السلیط کا نام دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں السلیط کا لفظ مرد کے لیے تعریف کے معنی میں جب کہ عورت کے لیے مذمت کے معنی میں آتا ہے۔

تاج العروس نے لفظ سلطان کی اصل الزیت (تیل) ہونے کے حوالے سے المخصص کتاب کے موقف کی تائید کی ہے۔ تیل کو مساجد اور کلیساؤں میں جلانے کے لیے ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ یہ روشنی کا باعث ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نفع پہنچتا ہے۔

سلطان کا لفظ التسلّط (تحکم پسندی کا نظریہ) سے ہے اور یہ عطا کردہ قدرت و اختیار کے معنی میں آتا ہے۔ اسی سے السُّلطة (حُکاّم) کا لفظ ہے جس کے ذریعے ممالک اور حکومتوں میں اعلی ترین اختیاری فریق کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔

عربی میں مَلِك اور مُلك کے الفاظ الشدّ (کَسائی) اور الربط (جوڑ) سے ہیں۔ کتاب المخصَّص میں اس لفظ کی اصل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے عورت کے مرد کے ساتھ جوڑ کو إملاك کہا جاتا ہے۔ ابن سيّده کو مشہور لغت (لسان العرب) میں عربی کے تصنیفی کام کو وضع کرنے والی مکمل ترین شخصیت شمار کیا گیا ہے۔

ابن سیدہ کے مطابق مَلِك اور مُلك کو ایک ہی معنی اکٹھا کرتے ہیں اور دونوں الفاظ کی اصل الشدّ (کَسائی) اور الربط (جوڑ) ہیں۔ البتہ مَلِك اور سلطان میں فرق ہے۔ تاج العروس کے مطابق سلطان کا لفظ اُن شخصیات کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے جو بادشاہ نہیں ہوں۔

الزبیدی نے تاج العروس میں عربوں کے اقوال نقل کیے ہیں جن کے مطابق استعمال کی بعض صورتوں میں مِلك اور ماء (پانی) مجازی معنی میں ایک لفظ ہیں۔ اگر کسی کے پاس پانی نہ ہو تو تو کہا جاتا ہے کہ "ما لَه مِلك" یعنی اُس کے پاس پانی نہیں ہے۔

عربی زبان میں النّجاشی کا لفظ حبشہ کے بادشاہوں کے لیے آیا ہے۔ بادشاہوں کے لیے دیگر الفاظ میں القدموس (عظیم فرماں روا) اور المِقول (عظیم بادشاہ) بھی ہیں۔ علاوہ ازیں التبابعة یمن کے بادشاہی ہیں۔ اس کی واحد تبّع ہے۔ عربی زبان میں عجمیوں کے بادشاہوں کے لیے الهرمز اور الهرامزة کے الفاظ ہیں۔

المخصص کے مطابق پرانی عربی میں یہ قول ملتا ہے کہ "خَقّنوه على أنفسهم" یعنی انہوں نے اُس کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ یہ خاقان سے ہے جو ترکی کے ہر بادشاہ کے لیے استعمال ہونے والا نام ہے۔

عربوں نے البطریق (روم کا بادشاہ) کا نام ایسے وقت میں استعمال کیا جب یہ لفظ کسی شخص کی پسندیدہ صفت کے واسطے استعمال ہوتا تھا۔ كِسرى کا لفظ فارس کے ہر بادشاہ کے واسطے استعمال ہوتا ہے۔ جہاں تک البَلَهور کا تعلق ہے تو یہ لفظ عربی زبان میں ہدوستان کے بادشاہ کے لیے آیا ہے۔

الهُمامُ عربی میں بادشاہوں کے ناموں میں سے ہے۔ اس کے علاوہ الكَيخم کا لفظ وسیع و عریض سلطنت کے حامل بادشاہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

العباھلة (واحد : معبھل) اُن بادشاہوں کو کہتے ہیں جو اپنی سلطنت کے حوالے سے کسی کے ساتھ تنازع میں نہیں پڑتے۔

عربی زبان میں سلام بھی مُلک کے معنی میں آتا ہے۔ المخصص کے مطابق جب بادشاہوں کے لیے "حيّاك اللهُ وبيّاك" بولا جاتا ہے تو یہاں (حيّاك) کا معنی ہے کہ (اللہ) تمہاری ملکیت میں دے اور (بيّاك) سے مراد ہے کہ (اللہ) تمہیں مُلک کے ذریعے قابل اعتماد بنائے۔