.

اسرائیلی فوج کی نئی دہشت گردی، مقبوضہ القدس کے نواح میں فلسطینی مکانوں کی مسماری کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی تنقید اور فلسطینیوں کے احتجاج کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں فلسطینیوں کے مکانوں کو مسمار کرنا شروع کردیا ہے۔

سیکڑوں اسرائیلی فوجی اور پولیس اہلکار مقبوضہ مشرقی القدس کے نواح میں واقع فلسطینی گاؤں صورباہر میں بلڈوزروں اور بھاری مشینری کے ساتھ فلسطینیوں کے مکانوں کو منہدم کرنے کی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ گاؤں اسرائیل کی علاحدگی کی باڑ کے نزدیک واقع ہے اور اس کے مکینوں کو اب سکیورٹی کے نام پر بے دخل کیا جارہا ہے۔

صور باہر مقبوضہ القدس کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور اس کی آبادی پندرہ سے بیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ فلسطینی اتھارٹی کی عمل داری میں واقع ہے۔ اسرائیلی فوج کی اس جارحانہ کارروائی پر فلسطینی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ بیرئیر کے روٹ میں آنے والے دوسرے فلسطینی دیہات اور قصبوں کے لیے بھی ایک مثال بن جائے گی اور صہیونی فورسز وہاں بھی مکانوں کوسکیورٹی کے نام پر مسمار کر سکتی ہیں۔

اسرائیل کی سکیورٹی کے نام پر لگائی گئی یہ علاحدگی باڑ مقبوضہ غربِ اردن میں کئی سو کلومیٹر طویل ہے اور اس کا مقصد فلسطینی آبادیوں کو صہیونی آبادکاروں کی بستیوں اور شہروں سے الگ تھلگ کرنا تھا۔

صور باہر میں فلسطینی مکانوں کی مسماری مقبوضہ بیت المقدس پر قابض اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری دیرینہ تنازع پر ایک نئی محاذ آرائی کا آغاز بھی ہوسکتی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے صور باہر میں علی الصباح کارروائی کا آغاز کیا تھا اور آہنی باڑ کو کاٹ کر گاؤں میں داخل ہوگئے۔ انھوں نے پہلے فلسطینیوں کو ان کے مکانوں سے زبردستی نکالنا شروع کردیا اور پھر انھیں بلڈوزروں سے منہدم کرنے لگ گئے۔

اسرائیلی فوج نے پہلے ایک دو منزلہ مکان کو مسمار کیا اور پھر کثیر منزلہ نا مکمل عمارت کو ڈھایا تھا۔ صور باہر سے تعلق رکھنے والے ایک کمیونٹی لیڈر حمدہ حمدہ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی علی الصباح دو بجے لوگوں کو ان کے مکانوں سے زبردستی نکالنے لگے تھے۔ اس کے بعد انھوں مسمار کیے جانے والے مکانوں میں دھماکا خیز مواد لگانا شروع کر دیا۔

ان کی اس کارروائی کی فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور بین الاقوامی کارکنان نے تصاویر اور ویڈیو بنائی ہیں۔ ان کارکنان نے قابض فوج کی اس ریاستی دہشت گردی کو رکوانے کی کوشش کی تھی مگر صہیونی فوجیوں نے انھیں زبردستی پیچھے ہٹا دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے جون میں اس گاؤں میں فلسطینیوں کی تعمیراتی سرگرمیوں کو قابض حکومت کی عاید کردہ پابندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ گائوں کے مکینوں کو گذشتہ جمعہ تک متاثرہ عمارتوں کو یا ان کے حصوں کو ہٹانے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔

صور باہر کے بعض مکینوں کا کہنا تھا کہ وہ صہیونی فوج کی اس جارحانہ کارروائی کے بعد بے گھر ہو جائیں گےاور سڑکوں پر آجائیں گے۔ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے مکانات کی تعمیر کے لیے فلسطینی اتھارٹی سے اجازت نامے حاصل کیے تھے۔