.

مصر: 30 ہزار بچوں کو آوارگی کا شکار ہونے سے بچانی والی بیلجین خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم سے تعلق رکھنے والی افریقی نژاد ویلویا جیکسن وہ باہمت خاتون ہیں جنہوں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سڑکوں پر پھرنے والے 30 ہزار سے زیادہ بچوں کو ٹھکانہ اور سکونت فراہم کی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے 2003 میں مصر میں ایک ادارہ قائم کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ویلویا نے بتایا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہیں اور دنیا بھر میں بچوں کو درپیش مسائل کو شدید طور پر محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حوالے سے سال 2000 میں بیلجیم میں نمایاں اقدامات کے بارے میں سوچا۔ بعد ازاں ویلویا افریقا واپس لوٹ آئیں جس کو وہ اپنا آبائی علاقہ شمار کرتی ہیں۔ ویلویا نے واضح کیا کہ وہ بیلجیم سے کوچ کر کے قاہرہ آئیں تا کہ خود کو سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے لیے وقف کر دیں۔ ان میں بعض بچوں کو پیدائش پر چھوڑ دیا گیا اور دیگر بہت سے ایسے ہیں جن کا کوئی خاندان نہیں۔

ویلویا نے 2003 میں قاہرہ میں ایک چیریٹی ادارہ قائم کیا جو اب تک قاہرہ کی سڑکوں پر پھرنے والے 30 ہزار بچوں کو بچا چکا ہے۔ اس سلسلے میں قاہرہ کی سڑکوں پر آگاہی کے لیے دو ٹیمیں مصروف عمل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک استقبالیہ مرکز بھی ہے جہاں ہر ماہ تقریبا 700 بچے طبی اور نفسیاتی نہگداشت کے ساتھ ساتھ بامقصد زندگی گزارنے کے واسطے تربیت بھی پاتے ہیں۔

ویلویا کہتی ہیں کہ سڑک پر پھرنے والے بچوں کی نفسیاتی بحالی کا عمل آسان نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر بچے معاشرے کا سامنا کرنے کا اعتماد کھو چکے ہوتے ہیں۔ اس واسطے ویلویا نے ان بچوں کی مدد کے لیے سماجی ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔ یہ ماہرین سڑکوں پر طویل وقت گزارتے ہیں یہاں تک کہ ان بچوں کا اعتماد حاصل کر لیں اور پھر انہیں کام اور تعلیم کے لیے تیار کر لیں۔

بیلجین خاتون کے مطابق ان کے ادارے کے یتیم خانے میں 1200 سے زیادہ بچے موجود ہیں۔ ان بچوں کو سڑکوں پر سے لایا جاتا ہے جن میں سے اکثر شدید نوعیت کی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی ذہن سازی اور علاج کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔

ویلویا کا ادارہ ان بچوں کو اُن کے گھر والوں تک دوبارہ پہنچانے پر بھی کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی یک جہتی کی وزارت کے تعاون سے ایسے گھرانوں کو بھی تلاش کیا جاتا ہے جو ان بچوں کو گود لے کر ان کے مستقبل کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ ویلویا کے ادارے میں 180 مصری ملازمین اور اہل کار کام کر رہے ہیں۔ ویلویا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ قاہرہ اور برسلز کے درمیان اپنے وقت کو مناسب طور پر تقسیم کریں اور ادارے میں حتی الامکان اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔