.

اسرائیل کے ساتھ تمام سمجھوتے منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں : عريقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی مجلس عاملہ کے سیکریٹری صائب عریقات کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیادت نے اسرائیل کے ساتھ تمام سمجھوتوں کو منسوخ کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر محمود عباس نے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں وادی حمص کے قصبے صور باہر میں گھروں کے مسمار کیے جانے کے نتیجے میں متاثرہ تمام گھرانوں کے نقصان کی تلافی کا فیصلہ کیا ہے۔

رام اللہ میں ایک ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران عریقات نے بتایا کہ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے اور قابض اسرائیلی حکام کی عدالتوں کے ساتھ تمام معاملات روک دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

عریقات کا کہنا تھا کہ "فلسطینی حکومت تلافی کے میکانزم پر عمل درامد کے لیے مطلوب تمام اقدامات کرے گی۔ اس میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے فوری رہائش، مالی ہرجانہ اور ہر طرح سے زر تلافی شامل ہے۔ صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کو ہو ہدایت دی ہے کہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔ اگر امریکا سلامتی کونسل میں بین الاقوامی ارادے اور قانون کی راہ میں حائل ہوا تو ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا رخ کریں گے"۔

عریقات نے پریس کانفرنس کے اختتام پر یہ بھی کہا کہ صدر محمود عباس کی سربراہی میں پی ایل او کی مجلس عاملہ قابض اسرائیلی حکام کی عدالتوں کے نظام کے ساتھ معاملات روک دینے کا اعلان کرتی ہے۔

اس سے قبل فلسطینی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ عالمی فوج داری عدالت میں فلسطین میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مکانات کی مسماری کے ظالمانہ اقدامات کی عالمی تحقیقات کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ جنوب مشرقی بیت المقدس کے علاقے صور باھر میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے اسرائیلی فیصلے پرعمل درآمد روکنے کے لیے تل ابیب پرمختلف اطراف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں فلسطین نے عالمی عدالت انصاف سے بھی رابطہ کیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ صور باھر کے متاثرہ فلسطینیوں اور گھروں کی مسماری کے خطرے کاسامنا کرنے والے شہریوں‌ نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔ اس علاقے میں فلسطینی گھروں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حکام نے بیت المقدس میں صور باھر کے مقام پرفلسطینیوں کے 16 مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔