.

حزب اللہ کے لیے حوثیوں کے "عطیات" کے پیچھے خفیہ مقصد کیا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے خصوصی رقوم اکٹھا کرنے کے حوالے سے حوثیوں کے میڈیا میں جو کچھ سامنے آ رہا ہے اس کے پیچھے خفیہ مقاصد ہیں جن کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔

مقامی نیوز ویب سائٹوں نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ عطیات جمع کرنے کے اعلان کے پیچھے خفیہ مقصد منی لانڈرنگ کی اس بڑی کارروائی میں روپوش ہے جو حوثی ملیشیا لبنانی تنظیم حزب اللہ کے تعاون سے انجام دے رہی ہے۔

ذرائع نے واضح کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی قیادت وساطت کاروں اور تجارتی کمپنیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی ایک بڑی کارروائی انجام دے رہی ہے اور یہ سب حزب اللہ کے واسطے عطیات جمع کرنے اور اسے ارسال کرنے کے نام پر ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کے واسطے تعاون ... حوثی ملیشیا کی جانب سے عطیات کی مہم کا سہارا لینے سے پہلے بھی جاری تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا حزب اللہ کے لیے عطیات بھیجنے کے معاملے سے فائدہ اٹھا کر اپنی قیادت کی ملکیت کروڑوں ڈالروں کو بیرون ملک بالخصوص ترکی اور لبنان میں سرمایہ کاری کے لیے بھیج رہی ہے۔ یہ کارروائی نہایت رازداری سے انجام پا رہی ہے کیوں کہ امریکی حکام کی جانب سے حزب اللہ پر عائد پابندیوں کے سبب منی لانڈرنگ کی رقم ضبط کیے جانے کا اندیشہ ہے۔

اس سے قبل یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دی گئی لبنانی تنظیم حزب اللہ کے واسطے کروڑوں یمنی ریال جمع کر لیے۔

دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں کے زیر انتظام ریڈیو "سام" کے مطابق رقم جمع کرنے کی مہم کا آغاز 25 مئی 2019 کو ہوا تھا۔ اس دوران مجموعی طور پر 7.35 کروڑ یمنی ریال (1.32 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی) جمع کر لیے گئے۔

اقوام متحدہ یمن میں انسانی بحران کو دنیا کا بدترین انسانی بحران شمار کرتی ہے، جہاں ملک کی 85% آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

مذکورہ مہم ایران کی وفاداری کا دم بھرنے والی دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات کے حجم کو واضح کرتی ہے۔