.

دمشق یونیورسٹی: فیس بک پر "لائیک" کے سبب طالبہ کی سرزنش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر دمشق یونیورسٹی کی جانب سے جاری ایک فیصلے کی تصویر گردش میں آئی ہے جس میں دو طالبات کو اس بنا پر سزا اور سرزنش کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ "فیس بک پر یونیورسٹی کی اہانت کا سبب بنی ہیں"۔

فیصلے کے مطابق پہلی طالبہ کو ایک ماہ کے لیے نام کاٹ دینے کی سزا دی گئی ہے کیوں کہ اس نے سوشل میڈیا پر ایسا مواد پوسٹ کیا تھا جس سے یونیورسٹی کے وقار کو نقصان پہنچا۔ دوسری طالبہ کو وارننگ دی گئی ہے کیوں کہ اس نے پہلی طالبہ کی پوسٹ کو لائیک کرنے کی جسارت کی تھی۔

شامی ویب سائٹوں کے مطابق دمشق یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی نے پوسٹ کرنے والی طالبہ کو ایک ماہ کے لیے یونیورسٹی آنے سے روک دیا ہے۔ اس طالبہ نے اپنی پوسٹ میں دعوی کیا تھا کہ ایک مضمون کے استاد نے امتحانی سوالات افشا کر دیے۔ ڈسپلنری کمیٹی نے مذکورہ طالبہ کو بلا کر وضاحت پیش کرنے کے لیے کہا تا کہ دعوی درست ہونے کی صورت میں اس پر کارروائی کی جائے۔ تاہم یہ طالبہ ڈسلپنری کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئی۔

پہلی طالبہ کی پوسٹ کو "لائیک" کرنے والی دوسری طالبہ کو بھی کمیٹی نے طلب کیا تاہم وہ بھی پیش نہیں ہوئی۔

شیخ الجامعہ کے مطابق جب کوئی طالبہ پوسٹ کرتی ہے اور پھر اس موضوع کی پیروی کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کو جواب نہیں دیتی تو پھر ڈسپلنری کمیٹی اس طالبہ کے خلاف سزا کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر طالبہ خود کو زیادتی کا شکار پاتی ہے تو وہ ایک عرصے کے دوران اس فیصلے کے خلاف شکایت داخل کر سکتی ہے۔