.

"الثویرات کے گلزار" سعودی عرب میں ریت کے بیچ عجوبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں "نفود الثویرات" کا صحرا حائل کے مشرق سے لے کر القصیم کے مشرق اور جنوب تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ الزلفی شہر کے اطراف میں بھی آتا ہے۔ یہاں ریت کے ٹیلوں کے درمیان آباد علاقے بھی ہیں۔ اس کے بعض حصوں کو "صعافيق" کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ یہاں ریت کے ٹیلے واضح طور پر نظر نہیں آتے۔

نفود الثویرات کے وسط میں سیکڑوں چھوٹے نخلستان پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو آبادی رکھنے والے چھوٹے سے گاؤں کی صورت اختیار کر چکے ہیں جب کہ دیگر بعض آبادی کے کوچ کر جانے کے سبب معدوم ہو گئے۔

الزلفی کا شمار سعودی عرب میں سب سے زیادہ ریت میں گھرے شہروں میں ہوتا ہے۔ الزلفی نجد کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں اس کے بعض تاریخی مقامات ابھی تک محفوظ ہیں۔

اس کے علاوہ القصیم کے جنوب میں واقع المذنب شہر بھی نفود الثویرات کے ایک حصے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح الزلفی اور المذنب سعودی عرب کے وہ دو شہر ہیں جو نفود کے ریتیلے علاقے یا ریت میں نخلستانوں کے سب سے قریب واقع ہیں۔

مملکت میں ٹور آپریٹرز کی جانب سے مذکورہ نخلستانوں کے لیے سیاحتی سفر کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ ریت کے سمندر کے بیچ چھوٹے سے سبزہ زار کا منظر لطف اندوزی کا ذریعہ بنتا ہے۔ تاہم ان نخلستانوں میں بہت سی خدمات کی قلت ہے۔ صحرا کے بیچ خوب صورت منظر کے سوا یہ ابھی تک سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے کے حوالے سے اہم امور سے محروم ہے۔

ٹور آپریٹرز کے نزدیک گرمیوں میں یہاں کا سفر نہایت تھکا دینے والا ہے۔ اس لیے کہ یہ علاقہ آنے والوں کے استقبال کے انتظامات سے خالی ہے۔ تاہم بعض لوگ ان مقامات کی تصاویر دیکھ کر وہاں جانے پر اصرار کرتے ہیں۔

الزلفی میں آثار قدیمہ کے ایک ماہر خلیف العید کا کہنا ہے کہ اس صحرائی علاقے کی تاریخ بہت بڑی ہے۔ نفود الثویرات میں ٹیلوں کے بیچ آباد علاقے اس کو بسانے والوں کے نام سے منسوب کر دیے گئے۔ ان میں سے بعض نام اب بھی برقرار ہیں۔ بعض علاقے رقبے میں بڑے ہو کر گاؤں بن گئے جہاں آبادی بھی بڑھ گئی جب کہ بعض دیگر مقامات سے لوگ ہجرت کر گئے اور وہاں صرف چند تعمیرات یا خدوخال باقی رہ گئے۔

العید کے مطابق الزلفی اور القصیم کے درمیان پھیلے صحرا نفود الثویرات میں کثرت سے نخلستان اور گلزار پائے جاتے ہیں۔ ان میں بعض کو وہاں کے رہنے والوں نے زندگی بخشی اور وہ سرخ ریت کے بیچ اب بھی خوب صورت اور سبز نظر آتے ہیں۔

العید کا کہنا ہے کہ ان نخلستانوں یا گلزاروں کو مزید توجہ اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تا کہ یہ مقام فطرت اور صحرا کے چاہنے والوں کی آنکھوں کا مرکز بنے۔