.

اسرائیل لبنانی املاک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے: لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیروت کی شہری املاک کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ بیروت کی بندرگاہ کے ذریعے سے حزب اللہ کو ایرانی اسلحے کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے بتایا کہ سال 2018 اور 2019ء کے دوران ایران اور اس کی القدس فورس نے تجارتی جہاز رانی کے راستوں بالخصوص بیروت کی بندرگاہ کا استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کو اسلحہ فراہم کیا۔

ڈینن نے سیکیورٹی کونسل کے سامنے بیان میں بتایا کہ "بیروت بندرگاہ اب حزب اللہ کی ملکیت بن گئی ہے۔" اسرائیل حزب اللہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے۔

لبنان کے اقوام متحدہ میں نمائندے امل مدللی نے بتایا کہ لبنان ایسے الزامات کو اپنے امن و سلامتی اور سویلین بنیاڈی ڈھانچے پر حملہ تصور کرتا ہے۔

امل مدللی کا کہنا تھا کہ "اسرائیل اگر ان الزامات کا سہارا لے کر 2006ء کی ہی طرز پر لبنان کی بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنانا چاہ رہا ہےتو سیکیورٹی کونسل کو اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

اس موقع پر ایران کے اقوام متحدہ میں نائب سفیر ایشغ الحبیب کا تھا کہ اسرائیلی نمائندے نے اس الزام کی مدد سے اپنے جرائم اور نا انصافی پر مبنی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی ہے۔