.

ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی قیادت کرنے والی'آئرن لیڈی'

ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی قیادت کرنے والی'آئرن لیڈی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آٹھ مئی 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے سمجھوتے کو'بدترین معاہدہ' قراردیتے ہوئے ایران پر ماضی میں عاید کی جانے والی پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کیا۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی تیل کی برآمدات صفر ہوگئیں جو کہ ملک کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی حکام بار بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ ایران پر 'سخت ترین' پابندیاں عاید کریں‌گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پرآنے کےلیے اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ ایک نیا جوہری معاہدہ جس میں میزائل نظام کو بھی محدو کیا جائے گا شامل ہوگا۔ اس کےعلاوہ ایران کو خطےمیں اپنے ایجنٹوں کی مدد بند کرنا ہوگی۔

امریکا یہ بھی واضح کرچکا ہے کہ وہ ایران کیےساتھ کھلی جنگ نہیں چاہتا اور یہ مانتا ہے کہ تہران پرعاید کردہ پابندیاں ہی اسے مذاکرات کی طرف آنے پرمجبور کریں گی۔

اگرچہ ایران امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کو'اقتصادی دہشت گردی' قرار دیتا ہے مگر یہ ایک اقتصادی جنگ ہے جس میں ہر وہ کمپنی، فرم ، ادارہ اور ملک شامل ہے جو ایران کےساتھ کسی نا کسی طرح تعاون کررہا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی جنگ جاری رہے گی مگر امریکی حکام میں ایک خاتون رہ نما بھی ہیں جو ایران پر پابندیوں کا شکنجہ مزید سخت کرنے میں‌پیش پیش ہیں۔ اگرچہ وہ اسکرین پرنہیں بلکہ پردے کے پیچھے بیٹھ کرایران کے خلاف کام کررہی ہیں مگر ان کی خدمات کی وجہ سے انہیں'آئرن لیڈی' قرار دیا جا رہا ہے۔ موصوفہ سیگل منڈلکر ہیں جو امریکی وزارت خزانہ کی دہشت گردی اور مالی امور سے متعلق انفارمین کی معاون ہیں۔

سیگل منڈلکر کے حوالے سے حال ہی میں 'دی ایٹلانٹک' نامی ویب سائیٹ پر'کٹی جیلسینان' کا یک مضمون شائع ہوا ہے جس میں‌بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی جنگ میں مسز منڈلکر کا کلیدی کردار ہے۔

ویب سائیٹ پر شائع مضمون میں فاضل مضمون نگار لکھتی ہیں کہ موجودہ موسم گرما میں ایران کےبڑے بڑے تیل بردار جہاز منظر سے غائب ہیں۔ انہیں‌تباہ کردیا گیا یا ان پر باقاعدہ طورپر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ ایران کے ڈرون طیارے مار گرائے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے ولی الفقیہ کے درمیان 'ٹویٹر' پر لفظوں کی جنگ جاری ہے۔

لڑائی کا مرکز اس وقت خلیج کا خطہ ہے مگر ایران کے خلاف ایران کی زیادہ تر پابندیاں فوجی نوعیت کی نہیں بلکہ اقتصادی اور مالیاتی نوعیت کی ہیں۔ امریکا ان پابندیوں کو ایران پر دبائو ڈالنے، اسے اپنا طرز عمل ٹھیک کرنے اور مذاکرات کی میز پرلانے کے لیے ایک ذریعہ قرار دیتا ہے۔ ایران پر مالی اور اقتصادی پابندیوں کی ڈور سیگل منڈلکر کے ہاتھ میں ہے۔

مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ سیگل منڈلکر تین امریکی صدور کےساتھ کام کرچکی ہیں۔ وہ ایران کی اشتعال انگیزی، امریکا اور ایران کے درمیان معاندانہ موقف اور ایران پرعاید کی جانے والی پابندیوں کو بہت قریب سے دیکھ چکی ہیں۔ اگرچہ ایران کے خلاف پابندیوں میں جان بولٹن اور مائیک پومپیو کا کردار بھی کسی سے مخفی نہیں مگر ایران پر مالی پابندیوں‌کے عملی نفاذ میں آئرن لیڈی سیگل منڈلکر کا کردار ناقابل فراموش ہے۔