.

بیوی کی درخواست پر سعودی فیملی کورٹ سے شوہر کو 10 سال نان نفقہ ادا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر جدہ کی ایک فیملی کورٹ نے ایک شہری کو اپنی بیوی کو 10 سال تک نان نفقہ دینے کا حکم دیا ہے۔ سعودی شہری نے اپنی بیوی کئی سال قبل گھر سے نکال دی تھی اور اس کا نان نفقہ دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق خاتون نے اپنے نان نفقہ کے حصول کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ اس نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ شوہر نے نہ صرف اسے گھر سے نکال دیا تھا بلکہ اس کا نان نفقہ دینےسے بھی انکار کر دیا تھا۔

اس نے عدالت میں اپنے شوہر کی موجودگی میں بھی یہی موقف اپنایا۔ شوہر کی طرف سے بیوی کے دعوے پر کوئی عذر پیش نہیں کیا گیا۔ آخری سماعت میں شوہرکی عدم موجودگی میں‌ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اسے 10 سال تک بیوی کو نان نفقہ دینے کا حکم دیا۔

خاتون نے عدالت میں ایک بیان حلفی جمع کرایا جس میں اس نے دعویٰ‌ کیا کہ اس کے شوہر نے اسے کئی سال قبل گھر سے نکال دیا تھا اور وہ اس کا نان نفقہ دینے سے بھی انکار کرتا رہا ہے۔ عدالت نے آنے والے 10 سال تک شوہر کو بیوی کو نان نقفہ دینے کا حکم دیا ہے۔

خاتون ایک سال تک شوہر کے ساتھ رہی۔ دونوں میاں‌ بیوی کے درمیان ناچاقی کے بعد شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا تھا جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔ اس نے کئی سال تک شوہر کے خلاف دعویٰ دائر نہیں‌ کیا۔ اس عرصے میں‌ خاتون کا والد بیمار رہا اور وہ شوہر کے ساتھ مصالحت کے لیے بھی پر امید رہی۔