.

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کا اختتام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں دو ہفتوں سے جاری سعودی امریکی بری افواج کی مشترکہ مشقیں جمعرات کے روز شمالی ریجن میں کنگ خالد ملٹری سِٹی میں اختتام پذیر ہو گئیں۔ اس موقع پر سعودی رائل آرمی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فہد بن عبداللہ المطیر اور امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ٹیری فیرل بھی موجود تھے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق لیفٹننٹ جنرل المطیر کا کہنا تھا کہ "کمانڈر 2019" کے نام سے ہونے والی مشقوں کا مقصد دونوں مسلح افواج کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ، خطے میں قیام امن اور سلامتی کے لیے مشترکہ کارروائی کی صلاحیت پیدا کرنا اور ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ نے ان مشقوں میں شرکت پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ شان دار مشق دونوں ملکوں کے بیچ کئی برسوں سے جاری دوستی کا مظہر ہے ، یہ دوستی جاری رہے گی اور مزید مضبوط ہو گی۔ میں مشق میں شامل ہونے والے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں"۔

ادھر مشقوں کے ڈائریکٹر میجر جنرل محمد بن محسن السنانی نے بتایا کہ مشقوں کی سرگرمیوں میں آرٹلری بریگیڈ، آرٹلری پلاننگ کے طریقہ کار، عسکری فیصلہ سازی کے عمل، فوج کی فیصلہ سازی کی صلاحیت ، بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں کے استعمال کی صلاحیت اور فوجی آپریشن میں آرٹلری کے کردار پرتوجہ مرکوز رہی۔

یاد رہے کہ یہ مشق اُن مشترکہ مشقوں کی ایک کڑی ہے جن کا مقصد سعودی مسلح افواج کا اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر لڑائی کی صلاحیت اور اہلیت میں اضافہ کرنا ہے۔