.

سعودی ہلال احمر کے خصوصی حج آپریشنل پلان کی تفصیلات جاری

ہلال احمر حج کےموقع پر 125 طبی مراکز اور 370 ایمبولینسیں فراہم کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی طبی سروس ہلال احمر کی طرف سے سال 1440ھ کے حج کے موقع پرطبی امداد سے متعلق آپریشنل پلان کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ہلال احمر دیگر اداروں کی طرح بیت اللہ کی زیارت کے لیے آنےوالے اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں پیش پیش ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی'ایس پی اے' کے مطابق ہلال احمر نے حجاج کرام کی فوری طبی امداد کے لیے مجموعی طورپر 125 طبی مراکز قائم مختص کیے ہیں۔ ان میں 36 مستقل اور 89 عارضی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ان ہنگامی طبی مراکز پر 2700 پیشہ ور افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیا جائے گا جو انتظامی، طبی اموراور حجاج کے لیے دیگر خدمات انجام دے گا۔ اس کےعلاوہ جدید آلات اور طبی سہولیات سے لیس 370 ایمبولینسیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

ہلال احمر کی طرف سے مکہ معظمہ میں 35 مستقل اور ہنگامی طبی مراکز قائم کئے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں 665 افراد پرمشتمل عملہ تعینات کیا جائے گا جو طبی سرگرمیوں میں معاونت کے ساتھ ساتھ دیگر امور میں مدد فراہم کریں گے۔ مکہ معظمہ میں 66 ایمبولینس گاڑیاں،چار گالف ڈبے، موٹرسائیکل پرسروسز فراہم کرنے والی ٹیم جب کہ حرم کی حدود میں چار طبی مراکز اور 11 ہنگامی طبی مرکز قائم کیے جا رہےہیں۔

ہلال احمر کی طرف سے مدینہ منورہ میں 21 ہنگامی اور مستقل طبی مراکز قائم کیےجائیں گے جن پر عملے کے 292 فراد سروسز فراہم کریں‌ گے۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ میں ہلال احمر کی طرف سے 73 ایمبولینسیں اور مسجد کے اطراف میں چار گالف گاڑیاں بھی فراہم سروسز کے لیے مختص کی گئی ہیں۔

منیٰ اور جسر جمرات میں ہلال احمرکے 36 ہنگامی طبی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جہاں 547 افراد پر مشتمل عملہ کام کرے گا۔ عرفات اور مزدلفہ میں 32 طبی مراکز اور 113 ایمبولینسیں میں 347 افراد سروز فراہم کریں‌ گے قائم کرنے کے انتطامات کیے گئے ہیں۔ وہاں پر 92 جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں بھی مہیا کی جائیں گی۔

کسی بھی ہنگامی حالت سےنمٹنے اور حجاج کرام کی بروقت امداد کو پہنچنے کے لیے ہلال احمر کی طرف سے 38 پیشہ ور اورماہر افراد پرمشتمل موٹرسائیکل ٹیم تیار کی گئی ہے۔ صرط طبی سروسز کی فراہمی کے لیے چھ ٹیمیں بنائی گئیں ہیں۔ تکنیکی امور میں 66 افراد معاونت کریں‌ گے۔