.

یمن : دنیا میں تیل کے سب سے بڑے رساؤ کے حوالے سے وارننگ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے ابھی تک اقوام متحدہ کی فنّی ٹیم کو اس بات کی اجازت نہیں دی ہے کہ وہ یمن کے ساحل کے مقابل کھڑے تیل بردار جہاز "صافر" کی مرمت کا کام شروع کرے۔ اس حوالے سے ماحولیاتی آفت کے جنم لینے سے متعلق مسلسل متنبہ کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ تیل بردار جہاز میں دس لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل موجود ہے اور اس کے پھٹ جانے کا اندیشہ بھی پایا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں یہ دنیا بھر میں تیل کے سب سے بڑے رساؤ کے واقعات میں سے ہو سکتا ہے۔

یہ تیل بردار جہاز یمن کے مغرب میں الحدیدہ صوبے کی راس عیسی بندرگاہ کے قریب چار برس سے کھڑا ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے جمعرات کے روز ایک بار پھر خبردار کیا کہ حوثی ملیشیا کی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی تکنیکی ٹیم کو تیل بردار جہاز تک رسائی نہ دینے کے سبب جلد ایک ماحولیاتی آفت جنم لے سکتی ہے۔ الاریانی کے مطابق تیل بردار جہاز پھٹنے یا اس پر لدے تیل کے رساؤ کے نتیجے میں تاریخ میں خام تیل کے رساؤ کا سب سے بڑا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ حادثے کی تباہ کاریاں بحر احمر کے علاوہ دنیا کی دو اہم ترین آبی گزر گاہوں آبنائے ہرمز اور نہر سوئز میں سمندری جہاز رانی کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یمنی وزیر نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے شرط رکھی گئی ہے کہ جہاز کی مرمت کے مقابل انہیں اس پر لدے تیل کے منافع (جس کا اندازہ 8 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے) کو ہتھیا لینے کے حوالے سے ضمانت دی جائے ،،، اس ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ایسی ماحولیاتی آفت کو جنم دے گی جو سعودی عرب، اریٹیریا ، سوڈان اور مصر تک پھیل سکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی امور کے رابطہ کار مارک لوکک نے گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ "حوثیوں نے تیل بردار جہاز "صافر" کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا۔ یہ تیل بردار جہاز جس میں 10 لاکھ سے زیادہ خام تیل بھرا ہوا ہے ، تیزی کے ساتھ گل رہا ہے۔ تیل کے ٹینکس کے اندر گیسوں کے جمع ہونے کا اندیشہ ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ جہاز پھٹ بھی سکتا ہے"۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ "صافر" آئل ٹینکر میں موجود تیل کا رساؤ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں جنم لینے والی اقتصادی اور ماحولیاتی تباہی کی پرچھائیاں نہ صرف یمن بلکہ پڑوسی ممالک پر بھی پڑیں گی۔

مارچ 2018 میں یمن میں آئینی حکومت نے تباہی واقع ہونے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ حکومت نے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا تا کہ مذکورہ تیل بردار جہاز کی مرمت عمل میں آ سکے۔ حوثیوں نے اس جہاز کو بلیک میلنگ کے واسطے کارڈ کے طور پر محفوظ کیا ہوا ہے تا کہ الحدیدہ میں کسی بھی فوجی کارروائی کا مقابلہ کیا جا سکے۔