.

اگر ’صحرائی جہاز‘ خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو اپنا شوق کیسے پورا کیا جائے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی مصور محمد الحنیفی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے صحرائی جہاز یعنی اونٹوں کو تصویری کینوس پر "جدّت" کے ساتھ پیش کیا ہے۔

بچپن میں الحنیفی کی آرزو تھی کہ وہ اپنی زندگی میں کئی صحرائی جہازوں کے مالک بنیں۔ تاہم جب الحنیفی نے محسوس کیا کہ ان کی خواہش حقیقت کا روپ دھارنے سے کافی فاصلے پر ہے تو انہوں اپنے برش اور رنگوں کا سہارا لے کر اونٹوں کے حوالے سے اپنے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فیصلہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے الحنیفی نے بتایا کہ "اونٹوں کی تصاویر سے متعلق فن پارے درحقیقت صحرائی ماحول اور زندگی سے میرے گہرے عشق اور تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے میں نے قرآن کریم کی آیت "أفلا ينظرون إلى الإبل كيف خلقت" (کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اونٹوں کی تخلیق کس طرح کی گئی)کو بنیاد بنایا ہے۔ اسی طرح اونٹ ایک نافع، مانوس اور خوب صورت منظر پیش کرنے والا جانور ہے۔ اونٹ کو عربوں کی ثقافت سے کسی طور علاحدہ نہیں کیا جا سکتا"۔

الحنیفی نے واضح کیا کہ مسرّت کے جذبات کی اندرونی کیفیت بسا اوقات گریہ زاری سے مشابہت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فن پارہ اپنے اندر ایک سوچ ، جمال اور جذبات رکھتا ہے۔ الحنیفی کے مطابق اونٹوں سے متعلق ان کے فن پارے ہمیشہ انہیں غیر مصنوعی وفا کی یاد دلاتے ہیں ، بالکل اونٹ کی وفاداری کی طرح جس کا اظہار وہ سخت ترین حالات کے باوجود اپنے مالکان کے لیے کرتا ہے۔

سعودی مصور کا کہنا ہے کہ "میرا یہ خواب ہے کہ اس وطن کا ہر انسان حقیقت کے اُس ذائقے کو چکھے جو فن لطیف عمومی صورت میں پیش کرتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے فن کار کے طور پر میرا پیغام خاص طور پر لوگوں تک پہنچے۔ مجھے بچپن سے ہی مصوری سے محبت ہے۔ میں نے اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک اپنے ساتھیوں پر برتری رکھتے ہوئے اس شعبے میں انعامات حاصل کیے۔ آج بھی میں روزانہ اوسطا ایک گھنٹہ مصوری کرتا ہوں۔ میں نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سی نمائشوں اور ورکشاپ میں شرکت کی۔ ان پروگرامات میں عرب اور عالمی دنیا کے بہت سے بڑے فن کاروں نے بھی حصہ لیا"۔

یاد رہے کہ محمد الحنیفی کی پیدائش سعودی عرب کے علاقے بیشہ کی ہے۔ وہ دارلحکومت الریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت آرٹ کے استاد کے طور پر ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں۔