.

ایرانی جلادوں نے برطانوی دوشیزہ پرظلم کے کیسے کیسے پہاڑ توڑے؟

آنا ڈائمنڈ کے ایران میں حراست میں پیش آئے واقعات کا تفصیلی احوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی ماہ تک ایران کی بدنام زمانہ ایون جیل میں قید وبند کی صعوبتیں اٹھانے والی ایرانی نژاد برطانوی طالبہ آنا ڈائمنڈ نے ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعات اور مظالم کا احوال بیان کیا ہے۔

آنا ڈائمنڈ کو ایرانی انٹیلی جنس حکام نے سنہ 2016ء کو ایران میں اپنے اقارب سے ملنے کے لیے آنے پر حراست میں لیا۔ اسے 8 ماہ تک جیل میں غیرانسانی ماحول میں رکھا گیا جہاں اسے جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں دینے کے ساتھ اس کی آبرو ریزی تک کی گئی۔

چوبیس سالہ آنا ڈئمنڈ کے انٹرویو کی تفصیلات برطانوی ٹی وی چینل'4' کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہیں۔

لندن کی کنگز کالج یونیورسٹی کی طالبہ آنا ڈائمنڈ کو ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس حکام نے حراست میں لیا۔ وہ برطانیہ سے ایران میں اپنے دادا آیت اللہ غلام رضا حسنی اور خاندان کے دیگر افراد سے ملنے آئی تھیں۔

ڈائمنڈ نے بتایا کہ ایرانی انٹیلی جنس حکام نے اس کے خلاف 52 الزامات عاید کیے۔ ان میں تین الزام ایسے تھے جو اس کی سزائے موت کا موجب بن سکتے تھے۔ یہ تین سنگین الزامات جاسوسی، الحاد اور فساد فی الارض کے حوالے سے تھے۔

اس نے بتایا دوران حراست اسے ساتھ ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا جہاں اس پر جسمانی اورذہنی تشدد کے بدترین حربے استعمال کیے گئے۔ اسے روزانہ 10 گھنٹے تک سخت ترین پوچھ تاچھ کی جاتی۔ اسے اعتراف جرم کرانے کے لیے سخت نفسیاتی حربوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

ماں پر تشدد

ایک سوال کے جواب میں آنا ڈائمنڈ نے بتایا جس کوٹھڑی میں اسے قید کیا گیا تھا وہاں قریب ہی کوئی دوسری خاتون بھی قید کی گئی تھی جس پر تشدد کیا جاتا اور اس کی چیخیں جیل دوسرے قیدی بھی سنتے تھے۔ ایرانی جیلر ڈائمنڈ کو بتاتے کہ یہ چیخیں تمہاری ماں کی ہیں جسے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ مجھے خوف زدہ کرنےاور ناکردہ جرائم کا اعتراف کرانے کے لیے کیا جاتا۔

اس نے انکشاف کیا کہ ایرانی جیلروں نے میرا کنوارپن معلوم کرنے کے لیے میرا معائنہ کرنے کا شرمناک حربہ استعمال کیا جس پر مجھے آبرو ریزی کا خوف لاحق ہو گیا۔

جیل سے رہائی کے بعد آنا ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ میں قید کے ایام کو پوری زندگی نہیں بھلا سکوں گی۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل بیان ہے اور میں اس کے اثرات سے پوری زندگی نہیں نکل سکوں گی۔

اس نے بتایا کہ جیل میں مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں نے میرے والد سے کہا کہ آپ کی بیٹی کو اس شرط پرچھوڑا جا سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے جاسوسی کرے اور ایجنٹ کا کام کرے مگرے میرے والد نے ایرانی انٹیلی جنس حکام کی طرف سے بلیک میلنگ کی کوشش مسترد کردی۔