.

ایران کا عراق کے ساتھ اشیاء کے تبادلے اور سرمایہ کاری فنڈ کا معاہدہ

امریکی پابندیوں کے اثرات سے نکلنے کے لیے ایرانی حربے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنے اتحادی ملک عراق کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے میں ایران اور عراق نے ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کے قیام اور اشیاء کے تبادلے کے سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔

ایران کی ’فارس‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تہران امریکی پابندیوں کے اثرات سے نکلنے کے لیے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے۔ عراق کے ساتھ اشیاء کے تبادلے اور مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کا معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

خیال رہے کہ ایران نے عراق کے ساتھ یہ تجارتی سمجھوتہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکا کی طرف سے ایران پرعاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

عالمی بنک کی طرف سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ جون میں ایرانی معیشت بدترین زبوں حالی اور بحران کا شکار پائی گئی ہے۔ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل پرعاید کردہ پابندیوں کے بعد تہران کی معیشت مزید دگرگوں ہوئی ہے۔

عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق سال 2019ء میں ایران کی معاشی ترقی کی رفتار نیکاراگوا سے بھی پیچھے چلی گئی ہے۔ رواں سال جنوری میں یہ گراف مزید نیچے چلا گیا اور ایرانی معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ چھ فی صد تک آ گئی۔

سال 2018ء کے وسط میں ایرانی معیشت میں ترقی کا تناسب 4 اعشاریہ 1 فی صد تھا۔ اس وقت 4 اعشاریہ 5 فی صد ہے۔