.

ایران کی یورپ کو ایک بار پھر'جوہری سرگرمیاں' تیز کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ایک بار پھر یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکا کی طرف سے عاید کردہ اقتصادی پابندیاں ختم کرانے کے لیے تہران کے مطالبات پورے نہ کیے تو ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو مزید تیز کردے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا کہ 'اگر یورپی ممالک نے معاہدے کی اپنی شرائط پوری نہ کیں تو تہران جوہری معاہدے کےحوالے سے تیسرے مرحلے کاقدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا'۔

خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق سوموار کو تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں عباس موسوی نے کہا کہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے سفارتی اور سیاسی مساعی جاری ہیں مگر ایران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

ویانا میں ایران اور یورپی ممالک کے مندوبین کے مشترکہ اجلاس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بعض یورپی ملکوں کو جوہری سمجھوتے کی کچھ شقوں پرعمل درآمد روکنے جانے پر اعتراض ہے۔ اجلاس میں ایران نے تہران کے بارے میں یورپی ملکوں کے طرز عمل پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ ایران نے یورپی ملکوں سے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران میں سے کسی ایک کا ساتھ دیں۔ یورپی ملکوں میں ایرانی شہریوں کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ برطانوی کے تحویل میں لیے گئے تیل بردار بحری جہاز کے حوالے سے بھی برطانوی حکومت کےساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ ایران نے برطانیہ پر واضح کیا ہے کہ اس کے بحری جہاز کو سمندری حدود کی خلاف ورزی پر تحویل میں لیا گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی چینل 'انسٹکس' پر بھی غور کیا گیا۔ ایران کی طرف سے اس حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ تہران اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدہ یورپی ملکوں کی طرف سے اس پرعمل درآمد سے مشروط ہے۔