.

تعز میں یمنی بچوں کے خلاف حوثیوں کی نئی جان لیوا کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوب مغرب میں واقع شہر تعز میں اتوار کے روز حوثی ملیشیا کی جانب سے ایک اور وحشیانہ کارروائی سامنے آئی ہے۔ اس کارروائی میں ابتدائی معلومات کے مطابق ایک بچہ جاں بحق ہو گیا۔ ان کے علاوہ ایک یمنی شہری اور دو بچیاں زخمی بھی ہوئیں جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

اس سے چند گھنٹوں پہلے صالہ ضلع کے علاقے الحمیرا میں اسی نوعیت کی ایک اور مجرمانہ کارروائی میں ایک ہی خاندان کے پانچ بچے زخمی ہو گئے تھے جن میں دو کی حالت نازک ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے تعز شہر کے شمالی حصے میں رہائشی علاقے پر توپوں سے گولہ باری کی۔ اس کے نتیجے میں ایک ڈیڑھ سالہ بچہ فوری طور پر جاں بحق ہو گیا جب کہ اس کی 10 سالہ بہن خلود شدید زخمی ہو گئی۔ ان کے علاوہ حملے میں 5 سالہ بچی ذکری علی عبداللہ اور ایک 38 سالہ شہری خالد حسن صالح بھی زخمی ہوئے۔

یمن میں بچوں کے حقوق کی پامالی کے مرتکب عناصر کے خلاف اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں حوثی ملیشیا پر بچوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس باغیوں کے ہاتھوں 400 کے قریب بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے تعز شہر میں رہائشی علاقوں پر توپوں اور ٹینکوں سے گولہ باری کی کارروائیاں جاری ہیں۔ باغیوں نے رہائشی علاقوں میں نشانچیوں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ حوثی ملیشیا نے چار برس سے تعز کے رہائشی علاقوں کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں شہریوں کے خلاف حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔

تعز میں کچھ عرصہ پہلے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ حوثی ملیشیا نے مارچ 2015 سے 15 جون 2019 تک تعز میں شہریوں کے خلاف 30494 کارروائیاں انجام دیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 2720 شہری جاں بحق اور 13494 زخمی ہوئے۔ کارروائیوں کا شکار ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے