.

پاسداران انقلاب ایران کی برطانوی جنگی جہاز سے ریڈیو مکالمے کی فوٹیج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے برطانیہ کے ایک جنگی بحری جہاز کے عملہ سے مکالمے کی فوٹیج جاری کی ہے۔ان کے درمیان آبنائے ہُرمز کے نزدیک 19 جولائی کو ٹاکرا ہوا تھا ۔ تب ایرانی پاسداران کے کمانڈوز نے برطانیہ کا ایک پرچم بردار آئیل ٹینکراسٹینا امپیرو تحویل میں لے لیا تھا۔

پاسداران انقلاب نے دنیا کی اس اہم آبی گذرگاہ میں یہ کارروائی اپنے ایک تیل بردار بحری جہاز کی ضبطی کے کوئی دوہفتے کے بعد کی تھی۔ برطانیہ کی شاہی بحریہ نے جبل الطارق ( جبرالٹر) کے نزدیک ایران کے ایک تیل بردار جہاز کو شام پر یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑ لیا تھا۔ اس پر ایران کا خام تیل لدا ہوا تھا اور اس کو شام کے لیے بھیجا گیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے سوموار کو یہ ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں ایک برطانوی ٹینکر کو پکڑنے کی فوٹیج بھی شامل ہے۔اس میں پاسداران انقلاب کے کمانڈوز کو ایک ہیلی کاپٹر سے جہاز کے عرشے پر کودتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ریکارڈ ہونے والی آواز کو نمایاں کردیا گیا ہے اور اس کو واضح طور پر سنا جاسکتا ہے۔

اس میں پاسداران کی بحریہ کا نمایندہ یہ کہہ رہا ہے:’’ آپ (جنگی بحری جہاز) کو ان امور میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔

دوسری جانب سے برطانوی لہجے میں انگریزی میں یہ جواب دیا جاتا ہے:’’یہ برطانوی بحری جہاز ٹو تھری سکس ہے۔ میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آبنائے کی حدود میں ایک تجارتی بحری جہاز کے ساتھ ساتھ رواں دواں ہوں۔وہ جہاز اس آبی راستے سے گذررہا ہے‘‘۔

پاسداران کا نمایندہ پھر یہ جواب دیتا ہے:’’ اپنی زندگی کو خطرے میں مت ڈالیں‘‘۔

’تسنیم‘ کے مطابق اس ویڈیو میں اس برطانوی جنگی بحری جہاز اور پاسداران انقلاب کے درمیان جولائی کے وسط میں ہونے والا ایک مکالمہ بھی شامل ہے۔ تب پاسداران کی تین کشتیاں مبیّنہ طور پر برطانیہ کے تیل بردار بحری جہاز ہیرٹیج کے نزدیک آ گئی تھیں۔

برطانوی حکومت نے 11 جولائی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے تین چھوٹے جہازوں نے برٹش ہیرٹیج کا آبنائے ہُرمز میں راستہ روکنے کی کوشش کی تھی لیکن جب برطانیہ کے ایک جنگی بحری جہاز نے انھیں انتباہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے تھے اور انھوں نے آئیل ٹینکر کو گھیرے میں لینے کا ارادہ ترک کردیا تھا۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے گذشتہ ہفتے سے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے اپنے تمام تیل اور مال بردار بحری جہازوں کے ساتھ تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز بھی بھیجنا شروع کردیے ہیں۔برطانوی حکومت خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسی میں تبدیلی لائی ہے حالانکہ اس نے پہلے کہا تھا کہ اس کے پاس تمام تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے وسائل نہیں ہیں۔