.

کیا بورس جانسن اخوان المسلمون سے متعلق پالیسی تبدیل کریں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن اور ان کی جماعت کنزر ویٹیو پارٹی عرب دنیا کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرے گی؟

یہ سوال ایک ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے کہ بورس جانسن نے 23 جولائی کو وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھالا ہے۔

برطانیہ کی 'see News' کی رپورٹ میں بورس جانسن کی زندگی، ان کے نظریات، مذہبی جماعتوں کے بارے میں ان کے افکارپرروشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بورس جانسن کا سیاسی پس منظر ان کے خاندانی واقعات سے کم دلچسپ نہیں۔

بورس جانسن ایک مصنف اور دانشور بھی ہیں جو خطے اور علاقائی وعالمی سیاست پربھی گہری دست رست رکھتے ہیں۔انہوں نےسنہ 2006ء میں رومن سلطنت کےحوالے سے ایک کتاب تالیف کی۔ انہوں نےاس میں لکھا کہ دنیا کے بعض خطوں میں ترقیاتی عمل میں رکاوٹ کا ایک سبب اسلام سمجھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں اسلام کی مظلومیت کی بات کی گئی اور یہی تاثر دنیا میں جنگوں کا موجب بن گیا۔

جونسن اور روم کا خواب

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بورس جانسن نے اپنی کتاب'جانسن اور روم کا خواب' میں اسلام کے حوالے سے جوموقف اختیار کیا اس پرانہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ مغرب کی نسبت اسلام مادی ترقی میں مسلمان ممالک کی پسماندگی کا سبب بنا اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری رہا۔ بورس جانسن کےاسلام کے حوالے سے نظریات اخبار گارجین نے بھی شائع کیے تھے۔

برطانیہ کی طرف سے اخوان المسلمون کے حوالے سے اپنائے گئے موف پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ کئی ممالک جن میں مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسرے ملکوں میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ ایسے میں بعض ممالک اخوان کو پناہ اور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اخوان کے رہ نمائوں اور ارکان کی بڑی تعداد قطر، ترکی اور برطانیہ میں موجود ہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی کیونکہ یہ ممالک اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیتے۔

کنزر ویٹیو پارٹی اور اخوان

مبصرین کا خیال ہے کہ برطانیہ کی کنزر ویٹیو پارٹی کے اخوان المسلمون کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ اخوان نے برطانوی کنزر ویٹیو پارٹی کو متعدد انتخابات میں کامیابی کے لیے مدد فراہم کی۔ اخوان کے حامی لوگوں نے کنزر ویٹیو پارٹی کے امیداروں کو ووٹ دیے۔ اس کے علاوہ برطانوی سیکیورٹی ادارے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک پر دبائو کےلیے اخوان المسلمون کو ایک آلہ کارکے طورپر استعمال کرتے ہیں۔

جانسن۔ ترک سیاسی مسلمان

رپورٹ کے مطابق بورس جانسن کے داد علی کمال ترکی کی ایک سرکردہ مسلمان سیاسی شخصیت تھے۔ خلافت عثمانیہ کےدور میں علی کما بک ایک صحافی بھی تھے۔ اس کے بعد جرائد کےچیف ایڈیٹر، شاعر، سیاست دان اور آزاد خیال لیڈر تھے۔انہوں نے فرید پاشا کی حکومت میں تین ماہ تک وزارت داخلہ کا قلم دان بھی سنھبالا۔ ترکی کی آزادی کی جنگ میں انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

اگرچہ بور جانسن کا خاندانی پس منظر ترک اور اسلام کےساتھ منسلک ہے مگر ان کے ذاتی خیالات ان کے پیش روئوں کے برعکس ہیں۔ وہ سبکدوش ہونے والی برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی نسبت اخوان المسلمون اور اس کے مالیاتی نیٹ ورک کے بارے میں ایک نیا موقف اختیار کرسکتے ہیں۔

برطانیہ میں موجود اخوان المسلمون کی قیادت کو بھی خدشہ لاحق ہے کہ بورس جانسن کے دور حکومت میں اخوان پرعرصہ حیات تنگ کیا جاسکتا ہے۔آنے والے وقت میں برطانیہ میں ان کی عالمی تنظیم، ابلاغی اور سیاسی نیٹ ورک پرایک نئی بحث چھڑتی نظر آ رہی ہے۔