.

قطر کا امارات کے خلاف دہشت گردی کا سہارا لینا افسوس ناک موقف ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ صومالیہ میں قطر کے سفیر کے حوالے سے نیویارک ٹائمز اخبار کی رپورٹ دوحہ کے دہشت گردی اور شدت پسندی کے ساتھ تعلق کی تصدیق کرتی ہے۔ انہوں نے قطر کی جانب سے امارات کے خلاف دہشت گردی کا سہارا لینے کو افسوس ناک موقف قرار دیا۔

منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں قرقاش نے مزید کہا کہ "(منظر عام پر آنے والی) ریکارڈنگ خطرناک ہے جس کی نفی بنا تحقیق جلد بازی میں دیے گئے کسی بیان سے نہیں ہو سکتی"۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ صومالیہ میں ہونے والے خونی دھماکوں کے پیچھے قطر کا ہاتھ ہے۔ اخبار نے ایک خفیہ آڈیو ریکارڈنگ میں جاری کی جس میں یہ انکشاف ہوا کہ صومالیہ میں ایک شدت پسند تنظیم نے دوحہ کے مفادات کی خاطر یہ دھماکے کیے۔

اخبار کے مطابق آڈیو ریکارڈنگ میں امیر قطر کی مقرب ایک کاروباری شخصیت خلیفہ المہندی موگادیشو میں دوحہ کے سفیر سے گفتگو کے دوران یہ انکشاف کر رہی ہے کہ شدت پسندوں نے قطر کے مفادات کو تقویت پہنچانے کے لیے بوصاصو شہر میں دھماکا کیا ہے۔

اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ المہندی نے 18 مئی کو ہونے والے دھماکے کے ایک ہفتے بعد صومالیہ میں دوحہ کے سفیر حسن بن حمزہ بن ہاشم سے گفتگو میں بتایا کہ قطر یہ جانتا ہے کہ ان دھماکوں اور ہلاکتوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق قطری سفیر نے اس بات پر کسی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا کہ قطریوں نے صومالیہ دھماکوں میں کردار ادا کیا ہے۔ آڈیو ٹیپ میں قطری ذمے دار کا کہنا ہے کہ یہ حملے کیے جاتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ ایک ریاست کو جس کی قطر مخالفت کرتا ہے ... صومالیہ چھوڑ دینے پر مجبور نہ کر دیں۔