.

خامنہ ای کی بحرین کے خلاف جلتی پر تیل چھڑکنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بحرین کے خلاف اشتعال انگیزی شروع کر دی ہے۔ خامنہ ای کا یہ موقف بحرین میں دہشت گردی کے حوالے سے مجرم ٹھہرائے جانے والے افراد کی سزائے موت پر رواں ہفتے عمل درامد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

خامنہ ای نے مذکورہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد بدھ کے روز احتجاج پر اکساتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "بحرین میں عوام کے ارادے کو فتح حاصل ہو گی"۔

بحرین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایران بحرینی عوام میں شدت پسندی کا شعلہ بھڑکا رہا ہے۔

بحرین میں سرکاری استغاثہ نے ہفتے کی صبح اعلان میں بتایا تھا کہ دہشت گردی اور ایک مسجد کے امام کے قتل میں مجرم قرار دیے جانے والے 3 افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ بان میں دو افراد کا تعلق جس مقدمے سے تھا اس میں دہشت گرد جماعت میں شمولیت، قتل کے جرائم کا ارتکاب اور دہشت گردی کی نیت سے دھماکا خیز مواد اور آتشی ہتھیاروں کا قبضے میں رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس مقدمے کی تفصیلات ایک دہشت گرد تنظیم کے قیام سے متعلق ہیں۔ اس تنظیم کے قیام میں ایران ، عراق اور جرمنی کے 12 جب کہ بحرین کے اندر 46 ملزمان شامل رہے۔ تنظیم نے بحرین میں متعدد مجرمانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔

تنظیم کے ارکان کو بحرین اسمگل کیے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے علاوہ مطلوبہ مالی رقوم بھی فراہم کی گئیں۔ تنظیم کے متعدد ارکان کو تربیت کے لیے عراق اور ایران بھیجا گیا جہاں انہوں نے پاسداران انقلاب کے کیمپوں میں دھماکا خیز مواد اور آتشی ہتھیاروں کا استعمال سیکھا۔