.

دہشت گردی کے معاونت کار ایران کو اربوں ڈالر سے محروم کر دیا: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کر کے دہشت گردی کے معاونت کار ملک کو اربوں ڈالر کی رقم سے محروم کر دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی سیکرٹری خزانہ برائے انسداد دہشت گردی و مانیٹری انٹیلی جنس سیگل منڈلکر نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران امریکا نے ایران کو اربوں ڈالر کی رقم سے محروم کیا۔ ایران کی طرف سے یہ رقم دہشت گردی کے فروغ پر صرف کی جانا تھی مگر امریکا نے ایران پرپابندیاں عاید کر کے بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

واشنگٹن میں انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈی سینٹر 'CSIS' میں منعقدہ ایک فورم سے خطاب میں مسز منڈلکر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عالمی سرپرست ایران کی ترجیحات میں دہشت گرد اور وحشیانہ نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کی معاونت فراہم کرنا ہے۔ ایرانی رجیم لبنانی حزب اللہ، فلسطینی تنظیم 'حماس' اور شام کے صدر بشار الاسد کو اربوں ڈالر کی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ ایران نے اپنے شہری شام کی جنگ میں جھونکے۔ شامی قوم کے ننھے منھے بچے ایرانی پاسداران انقلاب اور اسدی فوج کی مسلط کی گئی جنگ کا ایندھن بن گئے۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کے مرکزی بنک پر پابندیاں عاید کرنے کے ساتھ ایران کی بڑی آمدنی کے سامنے بند باندھ دیا گیا۔ ایرانی تیل، معدنیات، طیاروں، گاڑیوں اور دیگر مصنوعات کی درآمدات پر پابندی عاید کر دی گئی۔ ایران کے 1000 ادارے، افراد اور کمپنیاں بلیک لسٹ کر کے دنیا بھر میں پھیلے ان کے مالی نیٹ ورک کو رقوم کی منتقلی اور کاروبار سے محروم کر دیا۔

خیال رہے کہ امریکا نے ایران کی پیٹروکیمیکل انڈسٹری پر اس لیے پابندی عاید کی کیونکہ اس کا انتظام و انصرام بھی ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے پاس ہے۔ پاسداران انقلاب کو پیٹروکیمیکل صنعت کے حاصل ہونے والے ریوینیو کا 40 فی صد حاصل ہوتا ہے۔

امریکا نے گذشتہ برس ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کا اعلان کرنے کے بعد تہران پر ماضی میں لگائی گئی پابندیاں دوبارہ عاید کر دی تھیں۔ حالیہ مئی کے پہلے ہفتے میں امریکا نے ایرانی تیل کی عالمی منڈی کو سپلائی مکمل طور پر بند کر دی ہے جس کے بعد امریکا اور ایران مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے ہیں۔