.

شام میں داعش کے سلیپر سیل طشت ازبام :اسرائیلی رکن کا ناکام ’مقدس سفر‘!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں مختلف اسلامی اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے افراد تو شامل تھے ہی لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی صفوں میں شامل ہوکر اسرائیلی شہری بھی شام میں لڑتے رہے ہیں۔ وہ اس گروپ تک کیسے پہنچے تھے؟ وہ کیونکر اس میں شامل ہوئے تھے، ان کے مقاصد کیا تھے؟ اس حوالے سے العربیہ کی نمایندہ رولا االخطیب اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کچھ خفیہ گوشے منظرعام پر لائی ہیں اور انھوں نے شام کے شہر دیر الزور میں داعش کے سابق وابستگان سے گفتگو کی ہے اور ان کے خفیہ سیلوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی ہے۔

انھوں نے داعش کے سیاف نامی ایک رکن سے خصوصی گفتگو کی ہے۔ اس کے پاس اسرائیلی پاسپورٹ تھا اور اس کو داعش کے ماضی قریب میں مضبوط گڑھ دیر الزور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سابق جنگجو کی عمر تیس سال ہے۔ وہ عرب ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں پیدا ہوا، وہیں اس کا بچپن گزرا اور جوان ہوا تھا۔ وہ 2015ء میں شام آیا تھا اور اس نے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔

سیاف نے بتایا کہ ’’وہ داعش کے لیڈروں کے ابتدائی بیانات سے متاثر ہوا تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ان کی ایک دیانت دار ریاست ہے۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہیں‘‘۔ بس وہ اس قسم کے بیانات سے متاثر ہوگیا تھا۔

لیکن جب بعد میں وہ شام میں قید ہوگیا تو وہ داعش کا مخالف بن گیا تھا کیونکہ اس نے اس گروپ کی سفاکیت کو بہ چشم خود ملاحظہ کر لیا تھا۔ اب سیاف اسرائیل کو ایک جمہوری ملک قرار دیتا ہے اور ماضی میں وہ جس گروپ کو ’دیانت دار‘ ریاست قراردیتا تھا، اب اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔

اس نے انٹرویو میں بتایا کہ ’’دولت اسلامیہ ( داعش) میں شامی اور عراقی یا مہاجر ( غیرملکی) اور عراقی میں تمیز کی جاتی تھی اور اسی چیز نے اس دولت اسلامیہ کو تباہ کر دیا تھا‘‘۔

شام کی جانب سفر

سیاف کو اسرائیلی پاسپورٹ کا حامل ہونے کے ناتے شام کے سفر اور وہاں داعش میں شمولیت کے لیے ابتدا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے بہ قول :’’یہ کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔وہ کئی روز کے سفر کے بعد پہلے ترکی پہنچا تھا اور اس کے سرحدی علاقے سانلی عرفہ کی گذرگاہ سے شام کے علاقے تل ابیض میں پہنچ جانے میں کامیاب ہوگیا تھا‘‘۔

اس نے خود کو درپیش آنے والے مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کبھی کسی شخص کو مجھ سے کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو وہ (داعش کی) سکیورٹی فورسز کے پاس جاتا تھا اور انھیں بتاتا کہ میں اسرائیلی ہوں تو پھر مجھے فوری طور پر گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا‘‘۔

سیاف نے اسرائیل سے شام جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں شامی عوام کی مدد کے لیے شام جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ جبر و استبداد کا شکار تھے۔ دوسرا میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ اسلامی خلافت ہے کیا چیز؟ کیونکہ اس کا تو ہر کسی نے خواب دیکھا تھا‘‘۔

تاہم داعش نے اس کو اسرائیلی شہری ہونے کے ناتے گرفتار کر لیا اور تین سال کے لیے جیل میں ڈال دیا تھا۔ اس کے بہ قول ’’اس کے بعد مجھے اس کو دولتِ اسلامیہ کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی دعوے دار ہے‘‘۔

سیاف نے بتایا کہ ’’وہ ( داعش کے جنگجو) اسرائیل کے خلاف میرا بیان ریکارڈ کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ میں اسرائیل اور وہاں اپنے خاندان کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ میرا خاندان اور میرے لوگ وہاں تھے۔ اسرائیل نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ میں اس کو نقصان پہنچاتا۔‘‘

جب اس سے العربیہ کی نمایندہ نے سوال پوچھا کہ وہ داعش میں شمولیت اور ’دولتِ اسلامیہ‘ ہی میں کیوں جانا چاہتا تھا جبکہ اس نے اپنے آبائی وطن اور عرب سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کی تو کوئی مزاحمت نہیں کی تھی؟ اس نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

داعش میں کردار

داعش میں شمولیت کے ابتدائی دنوں میں سیاف نے شریعت کی تعلیم کے لیے جماعتوں میں شرکت کی تھی اور اس کو عسکری تربیت بھی دی گئی تھی۔ پھر اس کو شام کے صوبے حماۃ میں بھیج دیا گیا تھا۔ اس وقت یہ داعش کا مضبوط گڑھ تھا۔ وہ سر میں ایک پرانی چوٹ کی وجہ سے دھوپ میں باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ اس لیے وہ ایک مرد نرس بن گیا۔

اس نے بتایا کہ’ ’وہ شام میں ایک نرس کے طور پر کام کرنے ہی کے لیے گیا تھا۔ اس نے حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی طبی امداد کے لیے ایک ریسکیو ٹیم تشکیل دی تھی۔ جب کبھی کوئی حملہ ہوتا تو وہ وہاں زخمیوں کی طبی مدد کے لیے موجود ہوتا تھا‘‘۔

جب اس سے العربیہ کی نمایندہ نے پوچھا کہ کیا اس نے داعش میں شمولیت کے تین سال کے دوران میں بندوق بھی اٹھائی تھی تو اس نے کہا:’’ جی ہاں! میں نے بھی بندوق اٹھائی تھی۔ دولت اسلامیہ میں کوئی بھی شخص خواہ کچھ بھی کرتا تھا،وہ نرس تھا یا آئیل فیلڈ پر کام کرتا تھا تو اس کو بندوق اٹھانا پڑتی تھی۔‘‘

سیاف کے بہ قول ان کے پاس شامی رجیم کے زخمی فوجیوں اور گرفتار فوجیوں کو بھی علاج کے لیے لایا جاتا تھا اور اس نے زخمی ہونے والے داعش کے ارکان کا بھی علاج کیا تھا۔

داعش کے رکن کی حیثیت سے سیاف کی ایک شامی عورت سے شادی ہوئی تھی اور اس کے دو بچے ہیں لیکن اس کی شامی جیش الحر کی قید میں جانے کے بعد بیوی بچوں سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

داعش کی سفاکیت پر مبنی ویڈیوز

سیاف کے بہ قول اس کو سخت گیر جنگجو گروپ میں شمولیت کے پہلے سال کے دوران میں کچھ زیادہ واضح نہیں ہوا تھا۔ البتہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ داعش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر نہیں چل رہے ہیں۔ پھر اس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کے بیوی بچے ہونے چاہییں۔

اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ’’ مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے یرغمال افراد کو بے دردی سے ذبح کرنے اور ان کی ویڈیو بنانے کی مخالفت کی تھی۔ ان مقتولین میں بچے اور حاملہ عورتیں بھی تھیں۔ داعش کی پالیسی مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہوئی تھی‘‘۔

اس کے بہ قول داعش مرکزی قیادت کی سطح پر بڑی ناکامی سے دوچار ہوئے تھے۔ اس کے لیڈر ابوبکر البغدادی اور ان کے اردگرد موجود عراقی بقاع کے لوگ ناکام ہوئے تھے۔

جب سیاف سے داعش کی بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے کی ویڈیوز کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ ’’ میں نے ان ویڈیوز میں شہریوں کو نہیں دیکھا تھا۔ انھوں نے جن لوگوں کو قتل کیا،ان میں سے زیادہ تر اسد رجیم کے حمایتی تھے۔ وہ یہی کچھ لکھتے تھے۔ میں نے انھیں کبھی یہ لکھتے ہوئے نہیں دیکھا کہ :’’ یہ شہری ہے‘‘۔ میرے خیال میں وہ جھوٹے تھے۔

اس کا کہنا تھا کہ داعش کو کہنے کی حد تک تو شکست ہوچکی ہے لیکن اس گروپ کے خفیہ سیلوں کو شکست نہیں ہوئی اور وہ مکمل طور پر فعال ہیں۔ یہ گروپ شاید اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے اور کوئی بھی ملک اس پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

سیاف نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ اس کی بڑی وجہ داعش کے ارکان کا عقیدہ ہے اور اسی کی بدولت داعش کے جنگجو یورپ اور دنیا بھر میں حملوں کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور ایسے حملے کرتے ہیں۔ اس نے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہوکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک میں واپس جانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ داعش کواس سال مارچ میں امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ہاتھوں دیر الزور میں واقع اپنے آخری گڑھ باغوز میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس کے سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور خاندانوں سمیت خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کر دیا تھا۔ ان جنگجوؤں میں بیشتر اس وقت ایس ڈی ایف کی جیلوں میں قید ہیں۔